اسلامي جمهوري ايران کی نظر میں ق
اسلامي جمهوري ايران کی نظر میں قوه مجريه
- شق۱۱۳
- رہبر کے بعد ملک کا سب سے بڑا سرکاری عہدہ صدر ہے اور آئین کے نفاذ اور انتظامیہ کی سربراہی کی ذمہ داری سوائے ان امور کے جو براہ راست رہبر سے مربوط ہیں اس کے اوپر ہے۔
- شق ۱۱۴
- صدر مملکت عوام کے براہ راست ووٹ سے ۴ سال کی مدت کے لئے منتخب کیا جاتا ہے اور صرف ایک ہی مرتبہ مسلسل دوسری مدت کے لئے دوبارہ منتخب ہو سکتا ہے۔
- شق۱۱۵
- صدر مملکت کا انتخاب صرف متدین اور سیاسی شخصیات میں سے کیا جانا چاہئے جو مندرجہ ذیل شرائط کا حامل ہو :
ایرانی نژاد، ایرانی شہری، منتظم اور مدبر، اچھے ماضی کا حامل اور متقی و امانتدار، اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی اصولوں اور سرکاری مذہب پر اعتقاد و ایمان رکھتا ہو۔
- شق۱۱۶
- صدارتی امیدواروں کو چاہئے کہ وہ انتخابات سے پہلے اپنی آمادگی کا باضابطہ طور پر اعلان کریں۔
صدارتی انتخابات کے طریقہ کار کا تعین قانون کرے گا۔
- شق ۱۱۷
- صدر مملکت عوام کے ووٹوں کی مطلق اکٰثریت [۵۰٪=رائے+ایک رائے] سے منتخب ہوگا۔
لیکن اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امید وار مطلق اکثریت حاصل نہ کرسکے تو اگلے ہفتے جمعہ کے دن دوبارہ پولنگ ہوگی۔
دوسرے مرحلے میں صرف دو ایسے امیدوار شریک ہوں گے جنہوں نے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہوں ، لیکن اگر کسی بھی وجہ سے دوسرے مرحلے میں جانے والے کوئی امیدوار انتخابات میں شرکت نہ کریں تو اس کے بعد سب سے زیادہ ووٹوں کے حامل دو امیدواروں کو دوسرے مرحلے میں انتخاب کے لئے متعارف کرایا جائے گا۔
- شق 118
- صدارتی انتخابات پر نگرانی کی ذمہ داری شق 99کے مطابق نگراں کونسل [شورای نگہبان] پر ہے تاہم پہلی نگراں کونسل [شورای نگہبان] کی تشکیل سے قبل یہ ذمہ داری ایک ایسی نگران کونسل کو سونپی جاتی ہے جس کا تعین قانون کرتا ہے ۔
- شق 119
- نئے صدر کا انتخاب گزشتہ صدر کی مدت پوری ہونے سے ایک ماہ پہلے انجام پا جانا چاہئے جبکہ نئے صدر کے انتخاب سے سابق صدر کے دور اقتدار تک سابق صدر نئے صدر کے اقتدار سنھبالنے تک اپنے وظائف انجام دیتا رہے گا۔
- شق120
- اگر کوئی صدارتی امیدوار کہ جس کی اہلیت آئین کے مطابق ثابت ہوچکی ہو پولنگ سے 10دن پہلے انتقال کرجائے تو انتخابات 2ہفتوں کے لئے ملتوی کردئیے جائیں گے ۔ اگر صدارتی انخاب کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے درمیان اکثریت کے حامل دو امیدواروں میں سے کوئی ایک انتقال کرجائے تو پھر بھی انتخابات ۲ہفتوں کے لئے ملتوی ہوجائے گے۔
- شق121
- صدر مملکت چیف جسٹس [مجلس شورای اسلامی ] کے اجلاس میں مندرجہ ذیل حلف اٹھائے گا اور حلف نامہ پر دستخط کرے گا ۔
﷽
میں بحیثیت صدر مملکت، قرآن کریم اور ملت ایران کے سامنے خداوند متعال کو حلف دیتا ہوں کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری مذہب، اس کے اسلامی جمہوری نظام اور آئین کا پاسدار رہوں گا اور یہ کہ جو عہدہ میں نے حاصل کیا ہے اس کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے اپنی تمام تر استعداد اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤں گا اور یہ کہ خود کو عوام کی خدمت ، ملک کے وقار کی بلندی ، دین و اخلاق کی ترویج ، حق کی حمایت اور انصاف کے نفاذ کے لئے وقف کروں گا اور ہر طرح کی خود سری سے پرہیز کروں گا اور افراد کی آئینی آزادی ، احترام اور قوم کے آئینی حقوق کی حفاظت کروں گا۔
میں ملک کی جغرافیائی حدود، سیاسی معاشی اور ٰثقافتی آزادی کی حفاظت کی خاطر کسی اقدام سے گریز نہیں کروں گا اور اﷲ تعالی کی مدد، پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی پیروی سے ، قوم کی طرف سے مقدس امانت کے طور پر سونپے گئے اختیارات کو ایک امین ، با تقوی اور فداکار شخص کی مانند سنبھال کر رکھوں گا اور اسے قوم کے نئے منتخب صدر کے حوالے کروں گا۔
- شق 122
- صدر مملکت اپنے آئینی اور قانونی اختیارات اور وظائف کے حوالے سے قوم ، رہبر اور پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کے سامنے جوابدہ ہے۔
- شق123
- صدر مملکت [مجلس شورای اسلامی] کے منظور شدہ مسودات اور استصواب رائے [ریفرنڈم] کے نتائج کو قانونی مراحل طے ہونے اور اس تک پہنچنے کے بعد پابند ہے کہ اس پر دستخط کرے اور متعلقہ ذمہ داروں کو بھیجے۔
- شق 124
- صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے اپنے معاونین رکھنے کا مجاز ہے نائب صدر، صدر مملکت کی منظوری سے کابینہ کے اجلاس اور باقی معاونین کے درمیان ہم آہنگی کا ذمہ دار ہے ۔
- شق 125
- صدر مملکت یا اس کا قانونی نمائیدہ دوسری حکومتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں ، طریقہ کار کی یاداشتوں ، قرار دادوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے طے پانے والے معاہدوں پر پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] سے منظوری کے بعد دستخط کرنے کا ذمہ دار ہے۔
- شق126
- صدر مملکت براہ راست قومی منصوبہ بندی ، بجٹ ، حکومتی انتظامی اور روزگار سے متعلق معاملات کا ذمہ دار ہے ۔ وہ ان کاموں کو کسی دوسروں کے سپرد بھی کرسکتا ہے ۔
- شق 127
- خاص مواقع پر جب ضروری ہو تو صدر مملکت کابینہ سے منظوری لے کر مخصوص اختیارات کے ساتھ خاص نمائندہ یا نمائندوں کے تقریر کا مجاز ہے۔
اس صورت میں خاص نمائندہ / نمائندوں کے فیصلے صدر مملکت اور اس کابینہ کے فیصلے گردانے جائیں گے۔
- شق128
- سفیروں کا تقرر وزیر خارجہ کی سفارش پر صدر مملکت سے منظوری لینے کے بعد عمل میں آئے گا ، صدر مملکت سفیروں کے تعارفی مراسلات پر دستخط کرے گا اور دوسرے ممالک کے سفیروں سے ان کے تعارفی مراسلات بھی وصول کرے گا۔
- شق129
- سرکاری اعزازی نشانات عطا کرنا بھی صدر مملکت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے
- شق 130
- صدر مملکت اپنا استفی رہبر کو پیش کرے گا لیکن جب تک اسعفی قبول نہ ہو جائے اپنا کام جاری رکھنے کا پابند ہے
- شق 131
- صدر مملکت کے انتقال ، معزولی ، استعفی ، غیر حاضری یا 2 ماہ سے زیادہ بیماری کی صورت میں یا اگر صدر مملکت کی مدت کا اختتام ہوچکا ہو اورکسی وجہ سے نئے صدر کا انتخاب نہ ہو ا ہو تو اس صورت میں نائب صدر رہبر سے منظوری کے بعد صدر کے اختیارات اور ذمہ داریاں سنھبالے گا ۔
نائب صدر پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کے سپیکر اور چیف جسٹس[رئیس قوہ قضایہ] پر مشتمل شوری کی ذمہ داری ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ 50 دنوں میں نئے صدر کے انتخابات کی راہ ہموار کرے ، نائب صدر کے انتقال کر جانے یا کسی رکاوٹ کی صورت میں یا کسی نائب صدر کے موجودہ نہ ہونے کی صورت میں ، رہبر اس کی جگہ کسی شخص کو بطور نائب صدر مقرر کریں گے۔
- شق 132
- جب تک صدر مملکت کے اختیارات اور ذمہ داریاں نائب صدر یا کسی اور شخص جو شق 131 کے تحت معین ہوا ہے کہ کنھوں پر ہیں وزرائ کو مجلس شورای کی طرف سے مواخذہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی نہیں لائی جاسکتی ، اور آئین میں نظرثانی اور استصواب رائے [ریفرنڈم] کا انعقاد بھی نہیں کیا جاسکتا۔
- شق 133
- صدر مملکت وزرائ کو مشخص کرکے پارلیمنٹ[مجلس شورای اسلامی] میں اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے پیش کرے گا ، پارلمینٹ [مجلس شورای اسلامی] کی تبدیلی پر اعتماد کا ووٹ دوبارہ لینے کی ضرورت نہیں ہے ، وزرائ کی تعداد اور ان کے اختیارات کو قانون مشخص کرے گا۔
- شق 134
- کابینہ کا سربراہ صدر مملکت ہے وہ وزرائ کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اور مناسب تدابیر کے ذریعے ان کے فیصلوں میں ہم آہنگی پیدا کرے گا اسی طرح حکومت کی پالیسی کو مشخص کرے گا اور قوانین کا اجرائ کرے گا ، حکومتی اداروں کے درمیان اختلافات یا قانونی ذمہ داریوں میں دخل اندازی کی صورت میں اگر قانون کی تبدیلی یا وضاحت کی ضرورت نہ ہو تو صدر مملکت کی سفارش پر کابینہ آخری فیصلہ کرے گی ، صدر مملکت کابینہ کی کمیٹی کے کئے گئے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کے سامنے جوابدہ ہے۔
- شق 135
- وزرائ جب تک معزول نہیں ہوتے یا پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] ان کے خلاف عدم اعتماد کا اذہار نہیں کرتی وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے ۔ کابینہ یا کسی ایک وزیر کا استعفی صدر مملکت کو پیش کیا جائے گا اور نئی حکومت بننے تک کابینہ اپنا کام جاری رکھے گی ، صدر مملکت ایسی وزارتوں کے لئے کہ جن کا کوئی وزیر نہیں زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کی مدت کے لئے سرپرست [قائم مقام] مشخص کرسکتا ہے۔
- شق136
- صدر مملکت وزرائ کو معزول کرسکتا ہے اور اس صورت میں اس کو چاہئے کہ وہ نئے وزرائ کے لئے پارلیمنٹ[مجلس شورای اسلامی] سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے ۔ پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] سے وزرائ کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگر آدھے وزائ تبدیل ہوجائیں تو دوبارہ تمام وزرائ کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا پڑے گا۔
- شق 137
- ہر وزیر صدر مملکت اور پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کے سامنے اپنی مخصوص ذمہ داریوں کے بارے میں جوابدہ ہے اور کابینہ سے منظور شدہ امور کے مطابق دوسرے وزرائ کے اعمال کا بھی جوابدہ ہے۔
- شق 138
- ان امور کے علاوہ جن میں کابینہ یا کوئی وزیر قانون کے اجرائ کے قواعد و ضوابط کے بنانے کی ذمہ داری رکھتے ہیں کابینہ کو حق حاصل ہے کہ دفتری ذمہ داریاں انجام دینے قوانین کا اجرائ کرنے اور دفتری تنظیموں کو منظم کرنے کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرے۔
ہر وزیر اپنی ذمہ داریو اور منظور شدہ قوانین کے دائرے میں قواعد و ضوابط بنانے اور دستور العمل صادر کرنے کا حق تکھتا ہے لیکن ان کو قانون کی روح اور متن سے متصادم نہیں ہونا چاہئے حکومت اپنی ذمہ داریوں سے مربوط کچھ امور کی منظوری کو چند وزرائ پر اپنی کمیشنز کے ذمے لگا سکتی ہے ان کمیشنز کے منظور شدہ قانون کے دائرے کے اندر صدر مملکت کی منظوری کے بعد لازم الاجرائ ہیں۔
حکومت کے منظور شدہ قوانین اور قواعد و ضوابط اور مذکورہ کمیشنز کے منظور شدہ قوانین اجرائ کے لئے بھیجے جانے کے علاوہ پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کے سپیکر کو بھی بھیجے جائیں گے تاکہ سپیکر ان کا قانون کے ساتھ متصادم ہونے کی صورت میں اپنے دلائل کو ذکر کرتے ہوئے نظر ثانی کے لئے کابینہ کو واپس بھیج دے ۔
- شق 139
- حکومتی اور قومی اثاثوں پر جھگڑوں کی صلح کرانا یا انہیں اگر کابینہ منظوری دے تو متعلقہ عدالتوں میں بھیجنا کا بینہ اور پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کو اس بارے مطلع کرنا ضروری ہے اگر جھگڑے کا ایک فریق غیر ملکی ہو یا کوئی اہم ملکی معاملہ ہو تو پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کی منظوری بھی ضروری ہے ، اہم ملکی معاملات کو قانون معین کرے گا۔
- شق 140
- صدر مملکت ، اسکے نائبین اور وزرائ پر لگائے گئے عمومی نوعیت کے جرائم کے الزامات کی اطلاع پارلیمنٹ [مجلس شورای اسلامی] کو کرنے کے بعد عام عدالتوں میں سماعت کی جائے گی ۔
- شق141
- صدر مملکت ، اسکے نائبین اور وزرائ اور سرکاری اہلکار ایک سے زیادہ سرکاری عہدے نہیں رکھ سکتے ، ان کے لئے ایسے اداروں میں کام کرنا جن کا پورا یا کچھ سرمایہ سرکاری ہے پارلیمنٹ[مجلس شورای اسلامی] کا ممبر بننا ، وکالت کرنا ، قانونی مشورے دینا اور پرائیوٹ کمپنیز کا مینجر بننا یا انکی مینجنگ کمیٹی کی رکنیت اختیار کرنا ، سوائے اداروں کی کو آپریٹو کمپنیز کے ممنوع ہے۔ ان افراد کو یونیورسٹیوں اور تحقیق مراکز میں علمی عہدہ سنھبالنے کی اجازت ہوگی۔
- شق142
- رہبر صدر مملکت صدر کے نائبین، وزرائ اور انکے بیوی بچوں کے اثاثے ذمہ داریاں سنھبالنے سے پہلے اور بعد میں چیف جسٹس [رئیس قوہ قضایہ] کی طرف سے چک کئے جائیں گے تاکہ ناحق طور پر ان میں اضافہ نہ ہواہو۔
فوج اور اسلامی انقلاب کی محافظ فوج [سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]
- شق 143
- اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج ملک کی آزادی ، سالمیت اور اس کے اسلامی جمہوری نظام کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
- شق144
- اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج "اسلامی فوج" ہونی چاہئے کہ جو اسلامی نظریاتی اور عوامی ہو اور اس کو چاہئے کہ ایسے شائستہ افراد کو اپنے اندر شامل کرے جو اسلامی انقلاب کے اہداف پر ایمان رکھتے ہوں اور ان کے نفاذ کے لئے قربانی کا جذبہ رکھتے ہوں ۔
- شق 145
- کوئی غیر ملکی فوج اور دوسری سکیورٹی فورسز میں بھرتی نہیں کیا جاسکتا۔
- شق 146
- ملکی حدود کے اندر ہر قسم کی غیر ملکی فوجی چھاؤنیوں کا قیام ہر لحاظ سے ممنوع ہے چاہے پر امن مقاصد کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔
- شق147
- حکومت کو چاہِے کہ صلح کے زمانے میں فوج کے افراد اور فنی سازوسامان سے اسلامی عدل کے اصولوں کے مطابق اس حد تک امدادی ، تعلیمی ، پیداواری اور فلاحی تعمیراتی [جھاد سازندگی] کا کام لے کہ فوج کی جنگ کے لئے فوری آمادگی کی صلاحیت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
- شق148
- فوج کے وسائل اور سہولتوں کا ذاتی استعمال اور اس کے افراد سے کسی قسم کا ذاتی استفادہ بصورت نوکر ، ذاتی ڈرائیور یا اسی طرح کے دوسرے کام لینا ممنوع ہے۔
- شق149
- فوجیوں کے مراتب میں ترقی و تنزلی قانون کے مطابق ہوگی۔
- شق150
- اسلامی انقلاب کی محافظ فوج [سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی] جو کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی متشکل ہوئی تھی ، اسلامی انقلاب اور اس کے سرمائے کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے برقرار رہے گی ، دوسری مسلح افواج کی ذمہ داریاں اور دائرہ کار سے متعلق ان کی حدود ، باہمی تعاون اور برادرانہ ہم آہنگی کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون متعین کرے گا۔
- شق151
- اس آیت کریمہ: (وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ) (۸/٦٠)
کی رو سے حکومت اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے تمام افراد فوجی تربیت کی سہولیات فراہم کرنے اور منصوبہ بندی کرنے کی پابند ہے تاکہ تمام افراد ہمیشہ ملک اور اس کے اسلامی جمہوری نظام کا مسلحانہ دفاع کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں البتہ اسلحہ رکھنا متعلقہ محکمے کی اجازت پر مشروط ہے۔
دسواں باب
خارجہ پالیسی
- شق 152
- اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی اساس ہر قسم کی خارجی حاکمیت اور محکومیت کی نفی ، ہمہ جہت آزادی اور ملکی سالمیت کی حفاظت ، تمام مسلمانوں کے حقوق کی دفاع ، جابرانہ قوتوں کے ساتھ جانبداری کی نفی اور صلح طلب حکومتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام پر استوار ہے ۔
- شق153
- ہر طرح کے ایسے معاہدے جو ملک کے قدرتی اور معاشی وسائل ، ثقافت، فوج اور دوسرے ملکی امور پر غیروں کے غلبہ کا باعث بنیں ممنوع ہیں ۔
- شق 154
- اسلامی جمہوریہ ایران انسانی معاشرے میں انسانوں کی خوشحالی کو اپنی آرزو سمجھتا ہے اور استقلال، آزادی اور حقیقی عادلانہ حکومت کو دنیا کے تمام انسانو ں کا حق گردانتا ہے ، لہذا دوسری اقوام کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کے باوجود دنیا کے کسی بھی گوشہ میں مستضعفین کی مستکبرین سے حق طلبانہ جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔
- شق 155
- اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت سیاسی پناہ کے طالب افراد کو پناہ دے سکتی ہے مگر یہ کہ ایران کے قوانین کی روسے وہ خائن اور تخریب کا گردانا جائے ۔
1390 رياست جمهوري اسلامي ايران 2011 Presidency of The Islamic Republic of Iran
آدرس: تهران - میدان پاستور - خیابان پاستور تلفن: +98(21)64451