
صوبہ مازندران ميں عظيم الشان عوامي اجتماع سے صدر کا خطاب:
ايران، دنيا کے مظوم اور ستم ديدہ افراد کے اميد کي کرن ہے
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايران، آج پوري دنيا کي توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کيونکہ دنيا کے مظلوم اور ستم ديدہ موجودہ عالمي حالات سے اکتا گئے ہيں اور اسلامي جمہوريہ ايران ہي ان کي اميد کي کرن ہے۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج بدھ کو صوبہ مازندران ميں ايک بڑے عوامي اجتماع سے خطاب کے دوران کيا-
انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے سبسيڈي کو اصولي شکل ميں پيش کيا تو کچھ خود غرض افراد نے بيروني طاقتوں کي پشت پناہي ميں اسے غلط رنگ ديا کيونکہ ہمارا يہ اقدام عدالت پر مبني تھا جسے وہ اپنے ذاتي مفادات کے منافي سمجھتے تھے اور افسوس کي بات يہ ہے کہ اب وہ اس منصوبے کو ملک کي موجودہ مشکلات کا محور قرار دے رہے ہيں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پابندياں ايراني قوم کو سامراجي طاقتوں کے مطالبات کے آگے جھکنے پر مجبور نہيں کرسکتي ہيں، انہوں نے اميد ظاہر کي کہ کہا کہ پابنديوں کے نتيجے ميں ايران ميں پيدا شدہ مشکلات بہت جلد حل ہوجائيں گي۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ سامراجيوں نے دوسرے ممالک کي اقوام کے لۓ جو مشکلات کھڑي کي تھيں اب وہ خود ہي مشکلات کے دلدل ميں پھنس گئے ہيں-
انہوں نے مزيد کہا کہ آج سامراجي طاقتيں جھوٹ اور فريب کے ذريعے دنيا بھر کي اقوام کے درميان اختلافات پيداکرنے کے درپے ہيں جيسا انہوں نے جمہوريت اور آزادي کا نعرہ بلند کرکے افغانستان اور عراق پرقبضہ کيا اور آج وہ مشرقي ايشياء ميں جنگ بھڑکانہ چاہتي ہيں لہذا ان ممالک کو اس سلسلے ميں مکمل ہوشياري سے کام لينا چاہيے۔
صدر احمدي نژاد نے آخر ميں اس عزم کا اعادہ کيا کہ موجودہ حکومت اسلامي انقلاب کے فروغ اور عوام کي خدمت رسائي کے لئے اپني کوششيں جاري رکھيں گي۔