
"اسلامي بيداري اور علماء"کے عالمي کانفرنس کے اختتام پر صدر کا خطاب:
مسلمانوں کو جغرافيائي حدود سے بالاتر ہوکر پوري انسانيت کے فلاح و بہبود کے لئے سوچنا چاہيے
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جعرافيائي حدود سے بالاتر ہوکر پوري انسانيت کے فلاح و بہبود کے لئے سوچنا چاہيے، اگر ہم عالمي سوچ نہ رکھتے ہوں تو استعماري طاقتيں منظم منصوبے کے تحت ہمارے لئے لائحہ عمل تيار کريں گے جس پر ہميں مجبور ہو کر عمل کرنا ہوگا۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج منگل کو دارالحکومت تہران ميں منعقدہ خطاب کے دوران کيا-
انہوں نے مسلمانوں کو تفرقہ انگيز شازشوں سے باخبر رکھنے اور امت اسلاميہ ميں اتحاد و يکجہتي کو مستحکم بنانے کے لئے علماء کے کردار اور ان کي ذمہ داريوں پر زور ديتے ہوئے کہا کہ جب ہم اسلامي بيداري اور اسلامي تمدن کي جانب بڑھ رہے ہيں تو ہميں اسلام کي حقيقت کو کما حقہ سمجھنے کي ضرورت ہےـ
صدر مملکت نے کہاکہ مجھے يقين ہے کہ استعمار، صيہونزم اور لوٹ کھسوٹ کا وقت گزر چکا ہے اور يہ طاقتيں اب بند گلي ميں پہنچ گئي ہيں اور خود کو کسي صورت سے نجات دلانے کي کوشش کر رہي ہيں اور اس کے لئے وہ ايشيا، مشرق وسطي، افريقا اور لاطيني امريکا ميں بد امني پھيلا رہي ہيں ليکن پروردگار کے فضل سے اسلامي بيداري کي لہر مسلسل آگے بڑھ رہي ہے۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ صيہونزم کا زوال ہونے والا ہے، انہوں نے کہ اسلامي بيداري کي لہر کا رخ موڑنے کي دشمن کي سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے علما اور امتِ مسلمہ کے ہوشياري کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ دنيا کي اصلاح، پرچم توحيد کي سربلندي اور قيام عدل کے لئے ہر ايک کو کوشش کرنے کي ضرورت ہے ۔