
ايران اور بنين کے سربراہوں کي ملاقات ميں:
دنيا ميں امن و انصاف کے قيام اور عالمي تعلقات ميں موجود ڈھانچے کي اصلاح کے ليے مشترکہ کوششيں کرنے کي ضرورت
اسلامي جمہوريہ ايران اور بنين کے سربراہوں نے دنيا ميں امن و انصاف کے قيام اور عالمي تعلقات ميں موجود ڈھانچے کي اصلاح کے ليے مشترکہ کوششيں کرنے کي ضرورت پر زور ديا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے بنين کے صدر يائي بوني سے ملاقات ميں اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ دنيا کو قوموں کي مشترکہ امنگوں اور اصول کي بنياد پر ايک عادلانہ نظام کي ضرورت ہے، کہا کہ مختلف اقوام اور ممالک آپس ميں مل کر اور مشترکہ تعاون کے ذريعے عالمي تعلقات ميں اس اصول کو جاري کر سکتے ہيں۔
انہوں نے بنين سميت افريقي ملکوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو اسلامي جمہوريہ ايران کي خارجہ پاليسي کي ترجيحات ميں سے قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران اور بنين کہ جن کے درميان دوستانہ اور گہرے تعلقات ہيں، ايک ہي صف ميں ہيں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ناوابستہ تحريک کے ارکان کو چاہيے کہ وہ قريبي تعاون کے ذريعے عالمي تعلقات ميں ناوابستہ تحريک کے کردار ميں اضافہ کريں۔
بنين کے صدر نے بھي صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد کے بنين کے دورے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے افريقي ممالک ميں ان کي موجودگي کو اہميت کا حامل قرار ديا اور کہا کہ ايران براعظم افريقہ کو دوستانہ نظر سے ديکھتا ہے اور اس براعظم کے عوام کو بھي اسلامي جمہوريہ ايران پر اعتماد ہے اور بنين ايران کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دينا چاہتا ہے۔
صدر مملکت نے دنيا کے موجودہ اقتصادي نظام کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کا سيسٹم کچھہ ايسا ہے کہ قوموں کي محنت کا سرمايہ، سرمايہ داروں کي جيب ميں چلاجاتا ہے۔
صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے سامراج کے بردہ دارانہ افکار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سامراج اپنے اس مقصد کے حصول کيلئے مختلف طريقوں پر عمل پيرا ہے اور عملي طور پر اس وقت دنيا کا نظام ايسے لوگوں کے ہاتھہ ميں ہے کہ جنھوں نے سامراج کا پورا ايک بڑا دور گزارا ہے۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس نکتے کا ذکر کرتے ہوئے کہ يہ منھہ زور سامراجي، دنيا کے آزاد ملکوں کي ترقي و پيشرفت کے خلاف ہيں، کہا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کيلئے مختلف قسم کي سازشيں رچاتے ہيں جن ميں کسي بھي قوم ميں اختلاف و تفرقہ پيدا کرنا شامل ہے اور وہ اپنے سياسي و اقتصادي حربوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوموں کے خلاف پابندياں لگاتے ہيں ۔