
سمنان ميں عظيم عوامي اجتماع سے صدر کا خطاب:
ايراني قوم سياسي اور اقتصادي جہاد سے دشمنوں کو مايوس کرے گي-
صدر احمدي نژاد نے رہبر انقلاب اسلامي کي جانب سے رواں سال کو سياسي اور اقتصادي جہاد کا سال قرار ديے جانے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ کہ آئندہ صدارتي انتخابات ميں عوام کا کردار بہت ہي اہميت کا حامل ہے۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج سمنان ميں عظيم عوامي اجتماع سے خطاب کے دوران کيا-
انہوں نے مغربي نظام پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں اسلامي اور جمہوري نظام قائم ہے جبکہ مغربي ممالک ميں ڈيموکرسي اور جمہوريت کے نام پر لوگوں کے حقوق پائمال کئے جا رہے ہيں۔
صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دشمنوں کے دعوؤں کے مطابق ايران کےعوام کے خلاف دباؤ بہت زيادہ بڑھا ديا گيا ہے مزيد کہا کہ ايران کے عوام يہ توانائي رکھتے ہيں کہ وہ اپنے راستے ميں سبھي رکاوٹوں کو دور کرکے مشکلات و دشواريوں پر قابو پاليں-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران کے خلاف عائد پابنديوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک ايک غير اعلانيہ جنگ کا سامنا کررہا ہے اور دشمن طاقتوں کي کوشش يہ ہے کہ وہ سازشوں کے ذريعہ عوام کو موجودہ نظام سے متنفر کرسکيں ليکن ايراني ايک بابصيرت قوم ہے جو آيندہ انتخابات ميں بھرپور شرکت سے دشمن کو منہ توڑ جواب دے گي۔
انہوں نے ايران کي ترقي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بڑا ايراني سٹيلائٹ تيار کيا جارہا ہے اور آئندہ ايک سال ميں اس کو زمين کے مدار ميں روانہ کرديا جائے گا-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ حکومت نے آئندہ دس سالہ منصوبے ميں يہ طے کيا تھا کہ اس عرصے ميں انسان کو بھي خلاء ميں روانہ کيا جائے گا۔
صدر مملکت نے اقتصادي جہاد کے مسئلے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے اقتصاد ميں ترقي ہوني چاہيے اور دشمنوں کي جانب سے اسلامي جمہوريہ ايران کے خلاف دباؤ اور سازشيں بھي اس لئے ہو رہي ہيں کہ ايران کي ترقي کي صورت ميں خطے ميں مغربي ممالک کي مداخلت کا راستہ بند ہو جائے گا۔