ايران کے مغربي صوبے لرستان ميں دنيا کے سب سے اونچے کنکريٹ ڈيم کي تعمير کي افتتاحي تقريب سے صدر کا خطاب: ايران اپنے موقف پر ڈٹا ہے، دباؤ يا پابندياں ہماري راہ ميں ہرگز رکاؤٹ نہيں بن سکتيں
جمعرات 16 May 2013 - 10:41

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران دنيا کے سب سے اونچے کنکريٹ ڈيم کي تعمير جيسے عظيم منصوبوں کي تکميل سے دنيا والوں کو بتانا چاہتا ہے کہ ہم نے ترقي کا سفر شروع کيا ہے اور اس راہ ميں دشمن کي طرف سے کھڑي کي جانے والي ہر طرح کي رکاوٹ بے کار و بے سود ہے۔

ايران کے مغربي صوبے لرستان ميں دنيا کے سب سے اونچے کنکريٹ ڈيم کي تعمير کي افتتاحي تقريب سے صدر کا خطاب:

ايران اپنے موقف پر ڈٹا ہے، دباؤ يا پابندياں ہماري راہ ميں ہرگز رکاؤٹ نہيں بن سکتيں

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران دنيا کے سب سے اونچے کنکريٹ ڈيم کي تعمير جيسے عظيم منصوبوں کي تکميل سے دنيا والوں کو بتانا چاہتا ہے کہ ہم نے ترقي کا سفر شروع کيا ہے اور اس راہ ميں دشمن کي طرف سے کھڑي کي جانے والي ہر طرح کي رکاوٹ بے کار و بے سود ہے۔

خبر کا کوڈ: 46643 - 

جمعرات 28 March 2013 - 15:28

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران کے مغربي صوبے لرستان ميں دنيا کے سب سے اونچے کنکريٹ ڈيم کي تعمير کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کيا-

انہوں نے کہا کہ ايراني ماہرين ايمان اور خود اعتمادي کے جذبے سے سرشار ہيں اور وہ ملک کو ترقي کي منزل پر گامزن کرنے کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کے صوبۂ لرستان ميں دنيا کے سب سے اونچے ڈيم کي تعمير کے افتتاح سے پہلے مرحلے ميں، پندرہ سو ميگاواٹ اور پھر اس کے بعد ہر گھنٹے ميں ايک ہزار ميگاواٹ بجلي تيار کي جاسکے گي۔

صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بختياري کے نام سے معروف دنيا کے سب سے بلند اور اونچے ڈيم کي تکميل سے تقريبا" پانچ ارب دو سو ملين مکعب ميٹر پاني کا ذخيرہ کيا جاسکے گا؛ کہا کہ بختياري ڈيم کي تعمير سے ايک بار پھر ملت ايران نے اپني ترقي وپيشرفت کے حوالے سے دشمنوں کے سامنے اپنے عزم و ارادے کا اظہار کيا ہے۔

ياد رہے بختياري ڈيم کي تعمير پر تحقيق و ريسرچ کا کام دس سال پہلے شروع ہوگيا تھا اور تين سال پہلے تک اس کا اعلي سطح کے ماہرين جائزہ ليتے رہے اور آج جمعرات کو دنيا کے سب سے بلند اور اونچے کنکريٹ ڈيم کا افتتاح ہوا،اس ڈيم کي اونچائي تين سو پچيس ميٹر اور اس کا طول پانچ سو نو ميٹر ہے۔

خبر کا کوڈ: 46643  

- ملکی دورے