
ايران کے چھ نئے سفيروں کي صدر سے ملاقات:
ايران بين الاقوامي سطح پر عدل و انصاف کا خواہاں اور موجودہ سياسي ہتھکنڈوں کا مخالف ہے
صدر احمدي نژاد نے بعض ممالک ميں متيعن نئے ايراني سفيروں سے ملاقات ميں اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تم بيرونِ ملک امام زمانہ (عج) کے سفير ہو، مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي سياسي پاليسياں ہميشہ عدل و انصاف، امن و سلامتي اور سچائي پر مبني رہي ہيں اور اس نے عالمي سطح پر رائج سياسي ہتھکنڈوں کو نظر آنداز کرتے ہوئے استعماري طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے؛ ايراني سفيروں کو بھي ملک سے باہر اسي پاليسي کے تحت کام کرنا چاہيے۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج جمعرات کو بوسنيا و ہرزيگووينا، جمہوريہ مجارستان، جارجيا، ناروے، اوروگوئے اور صربيہ ميں نئے متعين ايراني سفيروں سے ملاقات کے دوران کيا-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران دنيا والوں کو ايک ايسا نيا عالمي نظام متعارف کرانا چاہتا ہے جو عدل و انصاف پر مبني ہو۔
صدر مملکت نے عالمي سطح پر ہوشياري اور تدبير کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران عالمي سطح پر اپنا کردار سچائي سے نبھا رہا ہے اور اگر وہ کسي ملک سے دوستي اور تعلقات برقرار کرتا ہے تو اپني دوستي پر ثابت قدم رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ظلم، تسلط پسندي، جارحيت اور ناجائز قبضے کے خلاف اپنے موقف کوکھول کر بيان کرتا ہے اور اسے بين الاقوامي طاقتوں سے کوئي خوف نہيں ہے۔
صدر جناب احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کا اسلامي انقلاب کسي خاص گروہ يا خاص علاقے تک محدود نہيں ہے بلکہ يہ سارے انسانوں سے تعلق رکھتا ہے اور اگر يہ انقلاب ساري دنيا ميں پھيل جائے تو اس سے سب کو فائدہ پہنچے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ ايراني سفير بيرونِ ملک مقيم ايرانيوں کو قريب لانے نيز ان ممالک کے ساتھ خارجہ ڈيپلمسي تعلقات برقرار رکھنے ميں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہيں۔