چوتھے عالمي جشنِ نوروز کانفرنس سے صدر کا خطاب: بہار اور نوروز کي ثقافت استعماري طاقتوں کا تختہ الٹ دے گي<br />
جمعرات 16 May 2013 - 10:40

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اگرچہ استعماري طاقتوں نے عدل و انصاف، آزادي اور دوستي پر مبني نظام کے قائم ہونے ميں طرح طرح کي رکاؤٹيں کھڑي کيں ليکن اب اس تاريک دور کا خاتمہ ہو رہا ہے اور انسانيت کي بہار قريب آ رہي ہے جو استعماري طاقتوں کا تختہ الٹ دے گي کيونکہ يہي اللہ تعاليٰ کا ستم ديدہ اور مظلوم انسانوں سے وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا۔

چوتھے عالمي جشنِ نوروز کانفرنس سے صدر کا خطاب:

بہار اور نوروز کي ثقافت استعماري طاقتوں کا تختہ الٹ دے گي

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اگرچہ استعماري طاقتوں نے عدل و انصاف، آزادي اور دوستي پر مبني نظام کے قائم ہونے ميں طرح طرح کي رکاؤٹيں کھڑي کيں ليکن اب اس تاريک دور کا خاتمہ ہو رہا ہے اور انسانيت کي بہار قريب آ رہي ہے جو استعماري طاقتوں کا تختہ الٹ دے گي کيونکہ يہي اللہ تعاليٰ کا ستم ديدہ اور مظلوم انسانوں سے وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا۔

خبر کا کوڈ: 46578 - 

جمعرات 21 March 2013 - 10:45

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج جمعرات کو ترکمانستان کي دارالحکومت عشق آباد ميں چوتھے عالمي جشنِ نوروز کانفرنس سے خطاب کے دوران کيا-

انہوں نے عالمي جشن نوروز کا اہتمام کرنے پر ترکمانستان کے عوام اور وہاں کے حکام کاشکريہ ادا کيا-

انہوں نے کہا کہ باہمي تعاون کے ذريعہ سے علاقے ميں امن و استحکام برقرار رکھا جاسکتا ہے اور ترقي و پيش رفت کے لئےمناسب قدم اٹھايا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے تمام ممالک کو ہوشيار رہنا چاہيے کہ استعماري طاقتيں پھر سے علاقے ميں نئے اڈے حاصل نہ کر پائيں يا دوستي اور خيرخواہي کے نام پر قوموں کے لئے بدامني پيدا نہ کريں کيونکہ استعماري طاقتيں ہميشہ دوست بن کر قوموں کو لوٹتي رہي ہيں۔

صدر مملکت نے کہا کہ استعماري طاقتيں ہميشہ علاقائي ممالک کے درميان اختلافات کو ہوا دے کر رائے عامہ کي توجہ اپني داخلي مشکلات سے ہٹانے کي کوشش کرتي ہے، حالانکہ اگر يہي ممالک بيدار رہيں تو يہ ترقي و پيشرفت کے لئے اپني قدرتي اور انساني توانائيوں پر بھروسہ کرکے ايک دوسرے کے حامي و پشت پناہ بن سکتے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ کہا کہ ہر نوروز پر ان ممالک کے درميان دوستي کي تجديد ہوتي ہے اور نوروز کي ثقافت نے علاقائي ممالک کو ايک دوسرے سے قريب کر ديا ہے



خبر کا کوڈ: 46578  

- غیرملکی دورے