- صدر احمدي نژاد کے ہاتھوں مشرق وسطي کي سب سے بڑي آئل ريفائنري کا افتتاح
جمعرات 16 May 2013 - 10:38

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے نے "شازند آئل ريفائنري" کے نام سے مشرقِ وسطيٰ ميں پٹرول کي پيداوار کےلئے سب سے بڑے منصوبے کا افتتاح کيا ہے۔

صدر احمدي نژاد کے ہاتھوں مشرق وسطي کي سب سے بڑي آئل ريفائنري کا افتتاح

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے نے "شازند آئل ريفائنري" کے نام سے مشرقِ وسطيٰ ميں پٹرول کي پيداوار کےلئے سب سے بڑے منصوبے کا افتتاح کيا ہے۔

خبر کا کوڈ: 46425 - 

جمعرات 14 March 2013 - 10:30

اس منصوبے کي تکميل کے بعد شازند ريفائنري ميں روزانہ 16ميلين ليٹر پٹرول اور 12ميلين ليٹر ڈيزل کي پيداوار ہوگي۔ اس ريفائنري ميں پيدا ہونيوالا پٹرول ،يورو 4 اور يورو 5 اسٹينڈرڈ کے مطابق ہوگا جبکہ اس ميں ماحوليات کو نقصان نہ پہنچانے والے قوانين کا بھي لحاظ کيا گيا ہے۔

اس موقع پر صدر احمدي نژاد نے يہ بات زور ديکر کہي کہ اب ضرورت اس بات کي ہے کہ ہم خام تيل بالکل برآمد نہ کريں بلکہ سارا تيل ملک کے اندر آئل ريفائنريوں ميں صاف اور تيل کي مصنوعات ميں تبديل کريں کيونکہ ايسي صورت ميں ہم اسے کہيں زيادہ قيمت ميں فروخت کرسکيں گے جس سے تيل سے ہونے والي آمدني ميں کافي اضافہ بھي ہوگا۔

جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران کے خلاف يکطرفہ پابنديوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ يہ منصوبہ ايراني ماہرين کے ذريعہ سے پايہ تکميل تک پہنچا ہے جس کي بنياد پر يہ کہا جاسکتا ہے کہ ايران کو آئل ريفائنري بنانے ميں کسي کے تعاون کي ضرورت نہيں رہي ہے-

انہوں نے اپنے خطاب ميں پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبے کے بارے ميں بھي کہا کہ اس گيس پائپ لائن کے ذريعے تمام پڑوسي ملکوں کو مرتبط کئے جانے کي ضرورت ہے تاکہ توانائي کے شعبے ميں تمام ہمسايہ ملکوں کي ضروريات پوري کي جاسکيں۔

صدرمملکت نے ايران کے خلاف عائد کي جانے والي يکطرفہ پابنديوں پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پابندياں لگانے والے ممالک کو ايران کے تيل کي ضرورت کا احساس ہے ليکن اس کے باوجود وہ منہ زوري سے باز نہيں آتے ہيں۔

اس موقع پر صدر احمدي نژاد نے گندھک پيدا کرنے کے منصوبے کا بھي افتتاح کيا جس کي تکميل سے گندھک کي پيداوار روزانہ 50 ٹن سے 600ٹن تک بڑھ جائےگي۔



خبر کا کوڈ: 46425  

- ملکی دورے