
پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبے کي افتتاحي تقريب سے خطاب:
ڈاکٹر احمدي نژاد: "امن پائپ لائن منصوبہ"علاقائي ممالک کے درميان گہري دوستي کي علامت ہے
آصف علي زرداري: "امن پائپ لائن منصوبہ"پاکستاني عوام کے رفاہ و خوشحالي کا باعث بنے گا
صدر احمدي نژاد نے پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبے کو دونوں ملکوں کے لئے تاريخي اہميت کا حامل قرار ديا ہے اور کہا ہے کہ حاليہ منصوبہ علاقائي ممالک کے درميان گہري دوستي کي علامت ہے۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج پير کي صبح پاک ايران گيس منصوبے کي افتتاحي تقريب سے خطاب کے دوران کيا-
انہوں نے کہا کہ موجوہ پراجيکٹ کي تکميل سے دونوں ملکوں کے درميان ثقافتي اور معاشي تعاون بڑھے گا، ترقي و پيش رفت کے بہت مواقع پيدا ہوں گے اور دوطرفہ روابط ميں استحکام پيدا ہو جائے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ بعض استعماري طاقتيں ديگر خود مختار کو ترقي يافتہ نہيں ديکھ سکتے لہذا وہ مختلف بہانوں سے ان کے اندورني مسائل ميں دخل اندازي کي کوشش کرتے ہيں-
انہوں نے کہا کہ مغربي ممالک کے حکمران ايران کے جوہري مسئلے کو ہوا دے رہے ہيں يہاں تک کہ وہ پاک ايران گيس منصوبے کے بھي مخالف تھے اور اس سلسلے ميں پاکستان پر سخت دباؤ ڈال رہے تھے حالانکہ سبھي جانتے ہيں کہ گيس پائپ لائن منصوبے کا ايٹمي پروگرام سے کوئي تعلق نہيں ہے۔
صدر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ دشمنوں کي سازشوں سے پاک ايران دوستي متاثر نہيں ہو سکتي، کہا کہ دونوں ملکوں کے درميان عرصہ دراز سے خوشگوار ثقافتي اور تجارتي روابط چلے آئے ہيں اور اب ان روابط کو مزيد استحکام بخشنے کي ضرورت ہے-
انہوں نے کہا کہ پاکستان زراعت کے شعبہ ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ تعاون کرسکتا ہے جبکہ دوسري جانب انرجي کي ضروريات پوري کرنے ميں اسلامي جمہوريہ ايران بھي پاکستان کي مدد کر سکتا ہے۔
اس موقع پرپاکستاني صدر جناب آصف علي زرداري نے بھي تقريب سے مختصر خطاب کيا، تقريب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علي زرداري نے پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبے کو نہايت اہم قرار ديتے ہوئے کہا کہ حاليہ منصوبہ پاکستاني عوام کے رفاہ و خوشحالي کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ايراني قوم نے امام خميني (رہ) اور رببر انقلاب اسلامي کے فرامين پر عمل کے نتيجے ميں پوري دنيا ميں خاص مقام پيدا کيا ہے، يہي وجہ ہے کہ آج انہيں پوري دنيا ميں عزت و احترام کي نگاہ سے ديکھا جا رہا ہے۔
آصف علي زرداري نے آمريکي حکمرانوں کے حاليہ بيانات کے جواب ميں کہا کہ ہم اپنے ہمسائے تبديل نہيں کرسکتے، کوئي ہميں ہماري شناخت نہ بتائے، ہميں بحثيت قوم اپني طاقت کا اندازہ کرنا ہوگا اور اس سلسلے ميں ہميں اسلامي جمہوريہ ايران سے بہت کچھ سيکھنے کي ضرورت ہے۔
انہوں نے آخر ميں پاک ايران گيس منصوبے کے سلسلے ميں تعاون پر ايراني حکومت شکريہ ادا کيا۔