
صدر احمدي نژاد کي حکومتي کابينہ کے اجلاس کے بعد صحافيوں سے بات چيت:
باہمي تعاون اور مفاہمت کے ذريعہ سے ہي ايران کے جوہري مسئلے کا حل ممکن ہے-
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ باہمي تعاون اور مفاہمت کے ذريعہ سے ہي ايران کے ايٹمي مسئلے کا حل ممکن ہے۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج بدھ کو حکومتي کابينہ کے اجلاس کے بعد صحافيوں سے بات چيت کے دوران کہي، انہوں نے ايران کے جوہري مسئلے کے حل کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ 5+1 گروپ کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کے ذريعہ سے ہي غلط فہمي دور ہو سکتي ہے-
انہوں نے کہا کہ دشمن کي کوشش يہ تھي کہ ايران کو ايٹمي توانائي سے باز رکھے ليکن اب انہيں خبردار رہنا چاہيے کہ ايران ايٹمي قوت بن چکا ہے اب کوئي بھي طاقت ايران پر حملہ کرنے کے بارے ميں سوچ بھي نہيں سکتا۔
اس دوران صحافيوں کے پارچين کي دفاعي پلانٹ کا معائنہ کرنے پر مذاکراتي ٹيم کے اصرار کے حوالے سے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ايران بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے ساتھ اس شرط پر اپنا تعاون جاري رکھنا چاہتا ہے کہ ايراني عوام کے مسلمہ حقوق پائمال نہ ہو جائيں۔
صدر مملکت نے کہا کہ افسوس اس بات کي ہے کہ بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي اب ايک آزاد ادارہ نہيں رہا ہے بلکہ يہ مغربي ممالک کے زيرِ سرپرستي کام کر رہا ہے۔
انہوں نے اسلامي انقلاب کي کاميابي کي سالگرہ کے موقع پر عظيم الشان عوامي اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ايراني قوم ايک بيدار، زندہ اور تاريخ ساز قوم ہے جو ان سخت حالات ميں بھي اپني ذمہ داريوں کو اچھي طرح سے نبھاتے ہوئے دشمن کي سازشوں کو ناکام بنا رہي ہے۔