مصري صحافيوں اور اہل قلم حضرات کے ساتھ صدر احمدي نژاد کي خصوصي نشست: ايران و مصر کے باہمي تعاون سے اسلامي ممالک ميں دشمنوں کي دخل اندازي کا سدباب ہو جائے گا-<br />
منگل 12 February 2013 - 06:21
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايران و مصر کے باہمي تعاون سے اسلامي ممالک ميں دشمنوں کي دخل اندازي کا سدباب ہو جائے گا۔

مصري صحافيوں اور اہل قلم حضرات کے ساتھ صدر احمدي نژاد کي خصوصي نشست:

ايران و مصر کے باہمي تعاون سے اسلامي ممالک ميں دشمنوں کي دخل اندازي کا سدباب ہو جائے گا-

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايران و مصر کے باہمي تعاون سے اسلامي ممالک ميں دشمنوں کي دخل اندازي کا سدباب ہو جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 45260 - 

بد 06 February 2013 - 01:11

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج منگل کو قاہرہ ميں مصري صحافيوں اور اہل قلم حضرات کے ساتھ خصوصي نشست کے دوران کيا-

اس دوران صدر مملکت امريکا کے نائب صدر جو بائڈن کے حاليہ بيان اور اسي طرح ايران اور امريکا کے تعلقات کے بارے ميں ايک صحافي کے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ جو باتيں ان دنوں امريکي حکام سے سننے ميں آرہي ہيں وہ نئي اور مثبت ہيں اور ہم اميد کرتے ہيں کہ ان کے روئے ميں بھي مثبت تبديلي پيدا ہو۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اگر ہم نے ان کے رويے ميں مثبت تبديلي ديکھي تواس صورت ميں ہم بھي مثبت انداز ميں ان کي پشکش کا جائزہ ليں گے-

انہوں نے کہا کہ صيہوني حکومت کو علاقے ميں جنگ و بدامني پيدا کرنے کے لئے وجود ميں لايا گيا ہے-صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اب اس وقت وہ ممالک بھي جنہوں نے صہيوني حکومت قائم کرنے ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا تھا اس نتيجے پر پہنچ گئے ہيں کہ يہ حکومت اب علاقے ميں ان کے مشن کو پورا کرنے کي توانائي کھوچکي ہے اسي لئے اب ان ملکوں کا رويہ بھي صيہوني حکومت کے بارے ميں تبديل ہوتا جارہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ صيہوني حکومت اور اس کي آئيڈيالوجي کا خاتمہ بہت قريب ہے -صدر احمدي نژاد نے کہا کہ صہيوني بھي اس بات کو سمجھ گئے ہيں اسي لئے شام پر حملے جيسے اقدامات کر کے اپنے حالات کو بہتر بنانے کي کوشش کررہے ہيں-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ صيہوني حکام کي تمنا يہ تھي کہ وہ ايران پر حملہ کريں مگر وہ ايسا نہيں کرسکتے کيونکہ انہيں معلوم ہے کہ اگر ايران کے خلاف جارحيت ہوئي تو اسکا منہ توڑ جواب ديا جائے گا-

انہوں نے کہا کہ آمريکا کے نائب صدر جو بائڈن کي طرف سے ايران سے براہ راست مذاکرات کي پيشکش سامنے کے آنے کے بعد ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھي کہا ہے کہ اگر امريکي حکام اپنے دعوؤں اور باتوں ميں سچے ہوں گے تو ان کي پيشکش پر غور کيا جائے گا۔

واضح رہے چند دن پہلے آمريکا کے نائب صدر جو بانڈن کے بيان کے بعد اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے کہا تھا کہ اگر امريکي حکام سچائي کے ساتھ ايران سے مذاکرات کرنا چاہتے ہيں تو ان کي پيشکش پر غور کيا جاسکتا ہے-

وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ ہمارا کہنا يہ ہے کہ اگر امريکي حکام اس نتيجے پر پہنچ گئے ہيں کہ وہ ہم سے مذاکرات کريں تو پھر يہ مذاکرات دباؤ اور پابنديوں کے ماحول ميں نہيں ہوسکتے پہلے ان کو ختم کرنا ہوگا-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا تھا کہ اگر امريکي حکام مذاکرات کرنے ميں سنجيدہ ہيں تو ہم بھي کچھ خاص معاملات پر ان سے مذاکرات کے لئے تيار ہيں ليکن شرط يہ ہے کہ امريکيوں کا رويہ محترمانہ اور دوطرفہ احترام اور برابري کي بنياد پر وہ مذاکرات کي ميز پر آئيں اور ساتھ ہي دباؤ اور پابنديوں کو ہٹانا ہوگا-



خبر کا کوڈ: 45260  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے