اسلامي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس سے صدر کا خطاب: امتِ مسلمہ کو تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد و يکجہتي کا مظاہرہ کرنا چاہيے-
جمعرات 16 May 2013 - 10:30

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا يہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرے۔

اسلامي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس سے صدر کا خطاب:

امتِ مسلمہ کو تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد و يکجہتي کا مظاہرہ کرنا چاہيے-

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا يہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرے۔

خبر کا کوڈ: 45240 - 

جمعرات 07 February 2013 - 14:41

يہ بات صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج مصر جمعرات کو مصر کي دارالحکومت قاہرہ ميں اسلامي تعاون تنظيم کے سربراہي اجلاس سے خطاب کے دوران کہي-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ آج دنيا اور خاص طور پر مشرق وسطي تاريخ کے خطرناک ترين دور سے گزر رہا ہے اور ہميں بڑے چيلنجز درپيش ہيں اور حتمي طور پر ان اہم اور سرنوشت ساز حالات کے لئے منصوبہ بندي کي ضرورت ہے ۔

صدر مملکت نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ عالم اسلام ميں باہمي اتحاد و وحدت کے لئے کوشش کي ضرورت ہے؛ کہا کہ آج اتحاد، حکومتوں اور قوموں کي اہم ترين ضرورت ہے کہ جسے مشترک اصول پر تاکيد کے ساتھہ قائم کيا جاسکتا ہے-

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معمولي اور جزئي قومي و مذہبي اختلافات پر اصرار، بھائيوں اور بہنوں کو بنيادي قانوني حقوق ،آزادي و خودمختاري ، کرامت ،عدل وانصاف اور ترقي وپيشرفت سے دور کردينگے اور جو قوّتيں اس قسم کے روّيوں کو پروان چڑھاتي ہيں اور دوسروں کو اس کي ترغيب دلاتي ہيں انسانيت کي دوست و ہمدرد نہيں ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نےغربت ، امتيازي سلوک ، بين الاقوامي تعلقات ميں توہين آميز رويّے ، تسلط پسندي ، آزاد و خود مختارقوموں کي دولت و ثروت پر منظم طريقے سے ڈاکہ ڈالنے اور آزاد و خود مختارقوموں کي ترقي و پيشرفت کي راہ ميں روڑے اٹکانے کو اسلامي ملکوں کے مشترکہ چيلنجز قرار ديا اور کہا کہ دسيوں اور سيکڑوں سال کا عرصہ ہوچلا ہے کہ صہيوني اور امريکي حکمراں اور اس ملک کے مغربي اتحادي کہ جو ماضي کے تسلط پسند اور سامراج بھي ہيں، آزاد و خود مختار ملکوں کي ترقي و پيشرفت کے مخالف ہيں-

صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ انساني معاشروں کي بڑي مشکلات ، تسلط پسندوں اور سامراجي دشمنوں کي مداخلتوں کا نتيجہ ہيں؛ کہا کہ دنيا کےجس کونے ميں بھي ظلم ، غربت اور امتيازي سلوک موجود ہے وہاں مغربي ممالک کا کردار روشن نظر آتا ہے کيونکہ وہ تسلط پسندي کے حوالے سے کسي بھي حد و مرز کے قائل نہيں ہے اور اس کا مقصد تمام ذرائع اورسرزمينوں پر مکمل قبضہ جمانا ہے۔

صدر مملکت احمدي نژاد نے اسي طرح کہا کہ افسوس کے ساتھہ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سي اسلامي حکومتيں ، آج دشمنوں کے ہاتھوں ميں کھلونا بني ہوئي ہيں اور مسلمان قوموں اور حکومتوں کےدرميان داخلي اختلافات پھيلانے ميں دشمنوں کے آلۂ کار ہونے کا کردار ادا کررہي ہيں، ان حالات ميں امت مسلمہ کو دشمنوں کي سازشوں سے مکمل ہوشيار رہنے کي ضرورت ہے۔



خبر کا کوڈ: 45240  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے