"الميادين"ٹي وي چينل کو صدر احمدي نژاد کا انٹريو: مصر کے ساتھ تعلقات کو سوچ بيچار کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہيں-<br />
منگل 12 February 2013 - 06:20
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ مصر کے ساتھ روابط بڑھانے ميں عجلت سے کام نہيں ليں گے بلکہ اس سلسلے ميں سوچ بيچار کے بعد مضبوط اور مستحکم قدم اٹھانا چاہتے ہيں۔

"الميادين"ٹي وي چينل کو صدر احمدي نژاد کا انٹريو:

مصر کے ساتھ تعلقات کو سوچ بيچار کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہيں-

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ مصر کے ساتھ روابط بڑھانے ميں عجلت سے کام نہيں ليں گے بلکہ اس سلسلے ميں سوچ بيچار کے بعد مضبوط اور مستحکم قدم اٹھانا چاہتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 45239 - 

منگل 05 February 2013 - 20:31

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے نے آج پير کي رات لبنان کے"الميادين ٹي وي چينل" سے انٹرويو ميں کيا، انہوں نے ايک سوال کے جواب ميں ايران کے اسلامي انقلاب کو ايک عظيم واقعہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ اگرچہ يہ عظيم انقلاب ايران ميں رونما ہوا ليکن اس کو کسي خاص جغرافيے اور قوم سے مخصوص نہيں کيا جاسکتا-

صدر مملکت نے اس انٹرويو ميں مصر کے ساتھ ايران کے روابط کے بارے ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے روابط تاريخي حيثيت رکھتے ہيں، انہوں نے کہا کہ ايران اور مصر اپنے ديرپا تعلقات سے چشم پوشي نہيں کرسکتے اور ان کے روابط کا استحکام پورے خطے کے مفاد ميں ہے-

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ايران اور مصر کے روابط ميں فروغ حالات کو مظلوم فلسطيني قوم کے مفاد ميں تبديل کرسکتے ہيں۔ صدر مملکت نے اس بات کے ساتھ اعلان کيا کہ ايران مظلوم فلسطيني قوم کي ہمہ گير حمايت ہر حال ميں جاري رکھے گا-

انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک متحد ہوجائيں تو اس علاقے ميں بيروني طاقتوں کي مداخلت کے سارے راستے بند ہو جائيں گے۔

صدر مملکت نے لبنان کے ساتھ ايران کے روابط کے بارے ميں کہا کہ ہم لبنان کي ارضي سالميت اور تحريک مزاحمت کي حمايت جاري رکھيں گے، انہوں نے کہا کہ اگر مصر اور سعودي عرب کے خلاف بھي جارحيت ہو تو ايران ان ملکوں کا بھي دفاع کرے گا-

انہوں نے ايران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے واشنگٹن کي خواہش کے تعلق سے امريکي نائب صدر جو بائيڈن کے حاليہ بيان کے بارے ميں کہا کہ امريکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے منصفانہ شرائط کي ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے شام کے حالات کے بارے ميں کہا کہ يہ فيصلہ کرنے کا حق صرف شام کے عوام کو ہے کہ کون اقتدار ميں رہے کون نہ رہے، انہوں نے عراق کے حالات کے بارے ميں کہا کہ بعض مغربي ممالک عراق کي تقسيم کے درپے ہيں اور علاقے کي بعض حکومتيں بھي ان کي مدد کررہي ہيں۔

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے انٹريو ميں کہا کہ تمام اقوام کو آزادي اور اپني مرضي کے مطابق انتخابات منعقد کرنے کا حق حاصل ہے اور کسي بھي ملک کو يہ حق حاصل نہيں کہ وہ شام و فلسطين سميت ديگر ممالک پر زبردستي اپني بات مسلط کرے



خبر کا کوڈ: 45239  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے