
ايران اور مصر کے سربراہوں کي ملاقات؛
ڈاکٹر احمدي نژاد: ايران و مصر کے تعاون کے فروغ سے خطے ميں ايک نئي طاقت قائم ہوگي- محمد مرسي: دنيا والے ايران و مصر کے تعاون کا نيا باب ديکھيں گے-
اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر کے سربراہوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ ميں کوئي رکاؤٹ اور بندش موجود نہيں ہے۔
تفصيلات کے مطابق صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد جو اسلامي تعاون تنظيم کے ممبر ممالک کے بارہويں سربراہي اجلاس ميں شرکت کي غرض سے مصر کے دورے پر قاہرہ گۓ ھيں؛
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج منگل کو مصري صدر محمد مرسي سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديا کہ ايران ومصر دو عظيم ممالک ہيں جو ديرينہ تاريخ اور اعلي تہذيب وثقافت کے حامل ہيں اور جنکا خطے ميں اہم سياسي کردار ہے- ان دونوں قوموں کے رشتے ھميشہ مثبت رھے ہيں اور اب ان رشتوں کي سطح کو بلند کرنے کے لے تمام تر گنجائشوں سے استفادہ کرنا چاہيئے۔
انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ايران و مصر کے تعاون کے فروغ سے خطہ ميں ايک نئي طاقت قائم ھوگي؛ کہا کہ اگر ايران و مصر متحد ھوں تو انسانيت کے عالمي دشمن علاقائي قوموں کا کچھہ بھي نہيں بگاڑ سکتے۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کسي بھي محدوديت کے بغير تمام شعبوں ميں مصر کے ساتھ تعلقات کو فروغ دينے کے لۓ تيار ہے ، ايراني قوم کي آغوش مصري قوم کي ترقي و پيشرفت کے لۓ کھلي ہوئي ہے-
صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايران اور مصر کے اھداف مشترک اور عالمي تعلقات ميں دونوں کا کردار اہم اور کليدي ہے؛ غير جانبدار تحريک ميں مصر کے کليدي کردار کي جانب اشارہ کيا اور کہا کہ اس تحريک ميں اتني زيادہ گنجائش موجود ھے کہ اسے ايران اور مصرنيز ديگر غير جانبدار ممالک کے باہمي تعاون کے فروغ اور قوموں کي ترقي و اقتدار کيلۓ استعمال کئے جانے کي ضرورت ہے۔
غير جانبدار تحريک کے موجودہ صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عالمي اور علاقائي حالات ميں تبديلي آرہي ہے؛ مصر ميں موجودہ حالات ميں اسلامي تعاون تنظيم کے سربراہي اجلاس کي جانب اشارہ کيا اور کہا کہ مختلف مسائل ميں ايران اور مصر کے تعاون کو بہت زيادہ اہميت حاصل ہے جو ان تمام تبديليوں کو متاثر کر سکتي ہے۔
صدر احمدي نژاد نے اس امر کي نشاندہي کي کہ تاريخي نقطۂ نظر سے بھي ايران و مصر ايک دوسرے کے دوش بدوش رہے ہيں تو يہ نہ صرف دونوں قوموں بلکہ تمام خطے کے مفاد ميں ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے شام کي صورتحال کا ذکر کيا اور شام کے بحران کو حل کرنا اور اس کے لئے مناسب تجويز پيش کرنا دونوں ملکوں کے مابين اہم موضوع قرار ديا اور کہا کہ لڑائي اور قتل عام جاري رہنے سے کبھي بھي اس ملک کي مشکل دور نہيں ہوگي اور شام کا مسئلہ باہمي مفاہمت سے مل جل کر حل کرنا ہوگا اور اسلامي جمہوريہ ايران کا خيال ہے کہ شام کوآباد اور طاقتور ہونا چاہيئے تاکہ شام کے عوام بھي اپني قسمت کا فيصلہ خود کرسکيں-
انہوں نے اسي طرح مسئلہ فلسطين کا بھي ذکر کيا اور کہا کہ اگر فلسطين کے مسئلے ميں بھي ايران و مصر باہمي تعاون کريں تو نتيجہ فلسطيني عوام کے مفاد ميں نکلے گا۔
مصر کے صدر جناب محمد مرسي نے اس ملاقات ميں يہ بيان کرتے ہوئے کہ ايران و مصر کے تعلقات خطے اور دنيا ميں بااثر مقام کے مالک ہيں؛
مصر کے صدر جناب محمد مرسي نے کہا آج کل موجودہ حالات ميں تمام شعبوں ميں ايران و مصر کا تعاون لازم اور ضروري ہے، انہوں نے صراحت کے ساتھہ کہا کہ ايران اورمصر مختلف شعبوں ميں اپنے تعاون کو مکمل فروغ دے سکتے ہيں اور دنيا والے ايران و مصر کے تعاون کا نيا باب ديکھيں گے-
ايران و مصر ہميشہ امن و ترقي اور سلامتي کے درپے رہے ہيں اور ہمارا خيال ہے کہ يہ ہمارا حق بنتا ہے کہ ايران و مصر ترقي يافتہ بنيں۔
محمد مرسي نے شام کي صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اس ملک کے مسئلے کے حل ميں ايران کے اہم کردار کي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ بحران شام ، ايران کے بغير حل نہيں ہوسکتا اور اس سلسلے ميں ايران کي کوششيں خاص اہميت کي حامل ہيں-
مصر کے صدر جناب محمد مرسي نے شام کے حوالے سے ايران کے ساتھہ تعاون پر زور ديتے ہوئے کہا کہ مصر کر ايران کي کوششوں پر مکمل اعتماد ہے۔
مصر کے صدر نے اپنے ملک کي حکومت اور قوم کو ايران کے اسلامي انقلاب کا حامي قرار ديا اور يہ بات کھل کر کہي کہ جب دشمنوں کا محاذ موجود ہے تو ان کے مقابلے ميں بھي ايک محاذ موجود ہونا چاہيئے اور يہ اسلامي ممالک کے اتحاد و تعاون کے بغير ناممکن ہے-
انہوں نے مسئلہ فلسطين کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل بھي اسلامي ممالک کے تعاون کے بغير ممکن نہيں ہے۔