
سال کي بہترين کتاب کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے صدر کا خطاب:
کتاب کے ذريعہ ايک نسل کے افکار دوسري نسل تک منتقل ہوتے ہيں-
صدر احمدي نژاد نے کتاب کي اہميت پر روشني ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ کتاب کے ذريعہ ايک نسل کے افکار دوسري نسل تک منتقل ہوتے ہيں، انہوں نے کہا کہ تمام دانشوروں کو علم و ٹنکنالوجي کے فروغ کے لئے اپني کوششيں تيز کرني چاہيے تاکہ دنيا سے جہالت اور تاريکي کا دور ختم ہو جائے۔
ان خيالات کا اظہار صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج ہفتے کو دارالحکومت تہران ميں سال کي بہترين کتاب کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کيا-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ انسان علمي لحاظ سے ابھي آغازِ راہ ميں ہے؛
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ جو لوگ کيميائي بم بناتے ہيں اور يہ جانتے بھي ہيں کہ يہ بم بدترين حالت ميں انسانوں کو خاک و خون ميں غلطاں کرنے کے لئے ہيں ، وہ ابھي حيوانيت کي حد سے باہر نہيں نکلے ہيں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان افراد نے جب يہ جان ليا کہ ان بموں کے استعمال سے صرف انساني جانيں ضائع نہيں ہوتيں کھيت بھي تباہ و برباد ہو جاتے ہيں تو انہوں نے ايسے بم بنانے شروع کئے جن سے صرف زندہ مخلوقات قتل ہوں اور دولت و ثروت ان کے لئے باقي رہ جائے، لہذا ايسے افراد حقيقي علم دور اور انحطاط و پستي کے شکار ہيں۔