
چھبيسويں عالمي وحدت اسلامي کانفرنس سے صدر مملکت کا خطاب:
تمام انسانوں کو عالمي استعماري طاقتوں کے مقابلے ميں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہيے-
صدر احمدي نژاد نے قومي اور مذہبي اختلافات کو استعماري سازشيں قرار ديتے ہوئے اس بات پر زور دي ہے کہ تمام انسانوں کو عالمي استعماري طاقتوں کے مقابلے ميں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہيے اور انہيں ہرگز اس بات کي اجازت نہيں چاہيے کہ وہ فرقہ واريت کي آگ کو ہوا دے کر اقوام کے درميان اختلافات کے بيج بوسکيں۔
يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج اتوار کو دارالحکومت تہران ميں چھبيسيويں عالمي وحدت اسلامي کانفرنس سے خطاب کے دوران کہي-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تمام انبياء کي بعثت کا مقصد يہ تھا کہ وہ لوگوں کے دلوں سے بغض اور حسد کي کدورتوں کو مٹا کر انہيں اتحاد و يکجہتي کي طرف رغبت دلاسکيں اور آج ہم سب اس کانفرنس ميں کائنات کي سب سے افضل ہستي حضرت امام محمد مصطفي (ص) کے نام پر اکھٹے ہوئے ہيں جو ہميں يہي بتلا کے چلے تھے کہ کامياب اور سعادت مندانہ زندگي اتحاد کے بغير حاصل نہيں ہوسکتي۔
صدر مملکت نے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے انسانوں کو دشمني اور محاذ آرائي کے لئے پيدا نہيں کيا ہے بلکہ انہيں اس لئے خلق کيا گيا ہے کہ وہ باہمي تعاون، اتحاد اور ہمدلي کے ذريعے پوري انسانيت کے لئے ايک کامياب زندگي گزارنے کا راستہ ہموار کرسکيں-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ خطے سميت پوري دنيا کو درپيش چينلجوں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپس ميں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہيے اور انہيں ہر طرح کے اختلاف سے بچنا چاہيے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ جو لوگ اقتدار کے بھوکے ہيں وہ ہرگز ان لوگوں کے ساتھ اتحاد نہيں کرسکتے جو دنيا ميں اللہ تعالي کي حاکميت کے لئے کام کرتے ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اتحاد، اخلاص اور الہي فرامين پر عمل پيرا ہونے سے ممکن ہے، کہا کہ لوگوں ميں جتنا زيادہ خلوص ہوگا انکا اتحاد بھي اتنا ہي مستحکم ہوگا، انہوں نے خطاب کے اخر ميں تمام شرکاء کا شکريہ ادا کيا۔
واضح رہے ہفتہ وحدت اورجشن ميلادالنبي (ص) کي مناسبت سے ہونے والي وحدت اسلامي کانفرنس ميں تقريباايک ہزار ايراني علماء اورمفکرين جبکہ عالم اسلام کي تين سوعلمي، سياسي اورثقافتي شخصيتيں حصہ لے رہي ہيں جن ميں جامعۃ الازھر مصر کے علماء، سوڈان ، شام اورتيونس کےمفتيان اعظم اورپاکستان وخليج فارس سميت ديگر ممالک کے اسلامي شخصيات اورمفکرين شامل ہيں جو مسلمانوں کو درپش عالمي چيلنجوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے مختلف امور کا تفصيلي جائزہ ليں گے۔