
"يونيورسٹي پروفيسر اور اسلامي بيداري"کے زير عنوان عالمي کانفرنس سے صدر کا خطاب:
اسلامي بيداري پوري انسانيت کے ليے ہے/ بيداري کا مطلب اپنے فرائض اور اپني حقيقت کا ادراک ہے۔
اسلامي جمہوري ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ اصلاح معاشرہ ميں اساتذہ اور دانشوروں کا کردار انتہائي اہم ہے۔
ايراني صدر نے ان خيالات کا اظہار آج تہران ميں شروع ہونے والي دو روزہ "يونيورسٹي پروفيسر اور اسلامي بيداري" کے زير عنوان عالمي کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کيا۔
اس دو روزہ کانفرنس ميں دنيا کے 71 مختلف ممالک کي يونيورسٹيوں کے 600 سے زيادہ مسلمان پروفيسر شريک ہيں۔ ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ بيداري کا مطلب جسماني خواب سے بيدار ہونا يا محض سياسي اور اقتصادي مسائل کي آگاہي حاصل کرلينا ہي نہيں ہے بلکہ بيداري کا مطلب يہ ہے کہ انسان اپنے فرائض اور اپني حقيقت کا ادراک کرے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں امريکہ ، اسرائيل اور ان کے اتحاديوں کي سازشوں کو برملا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمي سامراجي طاقتيں اپنے غلاموں اور نوکروں کے ذريعہ اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئےوسيع پيمانے پر تلاش و کوشش کررہي ہيں۔ صدر احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں کہا کہ امريکہ اور اس کے اتحادي، صہيونيوں کو بچانے کے لئے مذہبي اور نسلي اختلاف پيدا کرنے کي کوشش کررہے ہيں اور امريکہ کے اس شوم منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے قوموں کو بيدار رہنا چاہيے۔
ايراني صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دنيا کي اصلاح کے راستے ميں پہلا قدم خود انسان کي اپني اصلاح ہے، کہا کہ انسان مکمل شرف و وقار کے بام عروج اور زمين سے افلاک تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کامل کے افکار و نظريات کے مقابل ماديات ہيں جن ميں صرف شيطاني خواہشات، تسلط پسندي اور دنيا پرستي کا ہي دخل ہوتا ہے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ آزادي، کرامت ، عدل و انصاف تمام قوموں کا حق ہے انھوں نے کہا کہ امريکہ غاصب صہيونيوں کو بچانے کے لئےعلاقہ ميں مذہبي اور قومي اور لساني اختلافات پيدا کرنے کي تلاش و کوشش ميں ہے اور امريکہ کے اس شوم منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے علاقائي قوموں اور دانشوروں اور علماء کو ہوشيار رہنا چاہيے-
صدر احمدي ںژاد نے کہا کہ علاقہ کے بعض ممالک جن ميں جمہوريت کا کوئي نام و نشان نہيں ہے وہ دوسروں کو جمہوريت کا درس دے رہے ہيں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اس بات کا حامي ہے کہ دنيا کے تمام ممالک باہمي اتحاد اور يکجہتي سے دوستي اور عدالت کے ماحول ميں ايسے نظام کيلئے تلاش اور جد و جہد کرے جس ميں ظلم و زيادتي کا نام و نشان تک نہ ہو مگر عالمي سامراجي طاقتيں اپني ترقي اور پيشرفت دوسروں کو پسماندہ رکھنے اور اپني عزت و کرامت دوسروں کي توہين ميں ديکھتے ہيں جو مسلمانوں کيلئے قطعي طور پر قابلِ قبول نہيں ہے-
صدر نے مزيد کہا کہ علاقائي قوميں اس وقت بيدار ہيں اور وہ علاقہ ميں امريکہ کے غلام اور مزدور حکام کو اچھي طرح پہچانتي ہيں اور ان کے خلاف نبرد آزما بھي ہيں۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے علاقے کے عوام کو بھي مغربي ملکوں کي سازشوں کي بابت ہوشيار رہنے کي سفارش کرتے ہوئے کہا کہ مغربي ممالک ان پر تسلط جمانے کے لئے جمہوريت اور اس جيسے فريبي نعروں کا سہارا لے رہے ہيں - انہوں نے کہا کہ قوموں کي آزادي و خود مختاري اور ان کي عزت و شرف کے اصلي دشمن امريکا ، اسرائيل اور ان کے اتحادي ممالک ہيں -
انہوں نے عالمي سامراج کے سامنے جدوجہد، اسلامي معاشروں ميں مداخلت کے خاتمے، فلسطيني قوم کے حقوق کي بحالي اور اسلامي تشخص کے احيا کو علاقائي ممالک ميں اسلامي بيداري کے اہم مطالبات ميں شمار کيا اور کہا کہ اسلامي بيداري کي لہر ميں مسلم اقوام، غربت اور اقتصادي و سماجي مسائل سے مسلمانوں کے چھٹکارے اور ترقي کي جانب حرکت کي خواہاں ہيں