
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد کا پاکستاني ٹي وي چينل "جيو"کے ساتھ انٹرويو:
صہيونيوں کے لئے موجودہ صورت حال کو جاري رکھنا ممکن نہيں ہے اس لئے وہ غزہ ميں جنگ شروع کرکے حالات بدلنا چاہتے تھے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے آج جمعرات کو اپنے دورے پاکستان ميں پاکستاني ٹي وي چينل "جيو" کے ساتھ ايک انٹرويو ميں کہا کہ: صہيوني پوري دنيا ميں اقوام کي لوٹ کھسوٹ اور تباہ و بربادي ميں ملوث ہيں۔
صدر نے صہيوني رياست کو پوري دنيا کے لئے بہت بڑا خطرہ اور مسئلۂ فلسطين اور غزہ کو مسلمانوں کے لئے سب سے اہم مسئلہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ امريکي رہنما اور امريکہ پر حاکم صہيوني آج اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ صہيونيوں کے لئے موجودہ صورت حال کو جاري رکھنا ممکن نہيں ہے اس لئے وہ جنگ شروع کرکے حالات بدلنا چاہتے تھے ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے غزہ پر صھيونيوں کے حملوں کے بارے ميں کہا کہ غاصب صہيوني رياست بہت سے دہشت گرد گروہوں کي پشت پناہي کر رہي ہے اور منشيات کي پيداوار، اس کي تجارت اور اقوام کي ثقافت کو تباہ کرنے ميں يہ غاصب رياست ملوث اور ہميشہ جنگ بھڑکانے کے درپے رہي ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ امريکا اور صيہونزم دنيا کي تمام اقوام کو اختلاف و تفرقے ميں مبتلا کرکے اپنے ناجائز مفادات کي فکر ميں ہيں - انہوں نے کہا کہ صيہونزم ، ان کے حامي امريکا اور ديگر طاقتيں بہت کمزور ہيں صرف ان کے مقابلے ميں اتحاد کے ساتھ استقامت کي ضرورت ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا صہيوني رياست ايک جعلي رياست اور ملک ہے اگر اس نے ايران پر حملہ کيا تو اسے پچھتانا پڑے گا صہيوني رياست کو معلوم ہے کہ ايران اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور فلسطين کو بھي اپنے دفاع کا حق ہے۔
ايراني صدر سے پوچھا گيا کہ اس وقت عالم اسلام فرقہ واريت اور اختلافات کي لپيٹ ميں ہے تو يہ دونوں سازشوں کا کيسے مقابلہ کرے گا تو صدر مملکت نے کہا کہ اگر مسلمان توحيد کا پرچم اٹھا ليں اور پيغمبر(ص) کا راستہ اپنائيں تو تفرقہ بازي ختم ہوسکتي ہے۔ پاکستان ايران ترکي اور عرب ممالک متحد ہوکر امريکہ اور صہيونيوں کي سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہيں-
صدر مملکت نے مزيد کہا کہ پيغمبر اسلام نے قتل و غارت سے منع کيا تھا۔ ان کے دور ميں اسلامي رياست ميں رہنے والے يہوديوں اور عيسائيوں کو ان کے عقيدے پر چلنے کي اجازت تھي آج اگر کوئي کسي کو عقيدہ کي بنياد پر قتل کرتا ہے تو پيغمبر کي تعليمات کے خلاف ہے۔
پاکستان ايران اور افغانستان مل کر اس خطے ميں دہشت گردي کو ختم کرسکتے ہيں۔ اسرائيل کے حوالے سے ايک اور سوال کے جواب ميں ايراني صدر نے کہا کہ اسرائيل کو ہمارے علاقے ميں تيل اور دوسرے وسائل پر قبضہ جمانے کے لئے مسلط کيا گيا۔ اسرائيل کو حزب ﷲ، حماس اور جہاد اسلامي تينوں شکست دے سکتے ہيں اگر صرف مصر شام اور لبنان مل جائيں تو اسرائيل کا وجود مٹا سکتے ہيں اور اسلامي ملک مل کر اسرائيل کو ختم کرسکتے ہيں۔
صدر مملکت نے کہا فلسطين کا مسئلہ انتخابات کے ذريعے حل ہوسکتا ہے آج اگر وہاں انتخابات کرائے جائيں تو فلسطين کے حق ميں نتائج نکليں گے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ عالم اسلام ميں اس وقت تفرقہ بازي بيروني طاقتيں پيدا کر رہي ہيں۔
صدر مملکت نے پاکستان ميں دہشتگردانہ حملوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام دہشتگردي کا بہادري سے مقابلہ کررہے ہيں اور ايران کے عوام اپنے پاکستاني بھائي بہنوں کے ساتھ ہيں-
صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ امريکا اور صيہونزم دنيا کي تمام اقوام کو اختلاف و تفرقے ميں مبتلا کرکے اپنے ناجائز مفادات کي فکر ميں ہيں - انہوں نے کہا کہ صيہونزم ، ان کے حامي امريکا اور ديگر طاقتيں بہت کمزور ہيں صرف ان کے مقابلے ميں اتحاد کے ساتھ استقامت کي ضرورت ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ مغربي دنيا پاکستان کو مستحکم نہيں ديکھنا چاہتي ہے کہ بعض مغربي طاقتيں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتي ہيں۔ دہشتگردي کے پيچھے انہي کا ہاتھ ہے۔