
صدر احمدي نژاد کي پاکستاني صحافيوں کے ساتھ خصوصي نشست:
ايران کے لوگ تينتيس برسوں سے صہيونيوں کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار کي طرح کھڑے ہيں-
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ دہشتگردي کو عالمي سامراج اور مغربي طاقتيں بنائي ہيں تاکہ اس خطے ميں اپنے ناپاک عزائم کو پورا کريں- مغربي دنيا پاکستان کو مستحکم نہيں ديکھنا چاہتي ہے اور مغربي طاقتيں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتي ہيں۔ دہشتگردي کے پيچھے انہي کا ہاتھ ہے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جمعرات کو پاکستاني صحافيوں کے ساتھ خصوصي نشست ميں کہا کہ عالمي سامراج اپني حکمراني ميں دوام لانے کي غرض سے لوگوں ميں انتشار پھيلا رہا ہے- اور اب پوري دنيا کو اس مذموم سازش کے سامنے متحد ہونا چاہئيے-
ايک سوال پرصدر مملکت کا کہنا تھا کہ صہيوني حکومت ايران پر حملہ کرنا چاہتا ہے مگر يہ کسي بچے کي خواہش کي طرح ہے۔ ايراني قوم اپنا دفاع بہتر طريقے سے کرنا جانتي ہے صہيوني حکومت آج تک حزب اللہ اور حماس کو شکست نہيں دے سکا۔ ايران کے لوگ تينتيس برسوں سے صہيونيوں کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار کي طرح کھڑے ہيں-
صدر مملکت سے پوچھا گيا کہ پاکستان کو شکوہ ہے کہ بلوچستان ميں بھارت مداخلت کر رہا ہے۔ ايران کيا کردار ادا کرسکتا ہے تو ايراني صدر نے کہا کہ ميں ايک دوسرے کے معاملات ميں مداخلت نہيں کرنا چاہتا۔ ايران پاکستان اور بھارت کے درميان مذاکرات کا اہتمام کرسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں مل کر اپنے اختلافات طے کرسکتے ہيں۔ پاکستان ايران اور افغانستان مل کر خطے سے دہشت گردي کو ختم کرسکتے ہيں۔
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے پاکستان ميں گزشتہ روز کراچي اور راولپنڈي ميں ہونے والے بم دھماکوں کي شديد مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ميں ڈي ايٹ کانفرنس ميں آنيوالے مہمانوں کي آمد کے دن پاکستان ميں ہونے والے دھماکے دشمنوں کي طرف سے واضح پيغام تھا کہ وہ پاکستان کوآگے نہيں بڑھنے دينگے ليکن انہوں نے اميد ظاہرکي کہ پاکستاني عوام بہادري اوراتحاد سے دشمنوں کي سازش کوناکام بنائيں گے اورايران کے عوام پاکستاني بہن بھائيوں کے ساتھ ہيں اور اس مشکل گھڑي ميں پاکستاني عوام کوتنہا نہيں چھوڑيں گے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ پاکستان، افغانستان اور ايران کے عوام کو مل بيٹھنا چاہيے اور تينوں ممالک کے علماءکرام کا ايک اجلاس بلانا چاہيے جس ميں دہشتگردي کے خلاف مکمل موقف اختيار کرنا چاہيے کہ ہميں ايک دوسرے کاقتل نہيں کرنا چاہيے ۔
کشيدگي اور فتوﺅں کي بنياد پر ہم اپنے آپ کوکمزور کررہے ہيں اور دشمن کو مضبوط کر رہے ہيں۔ ہم ايک اللہ، ايک نبي اور ايک قرآن کے ماننے والے ہيں۔ ہمارے مشترکات زيادہ اور اختلافات کم ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلام آباد ميں اکٹھے ہونے والے آٹھ مسلم ممالک اگر يکجا ہو جائيں تو اپنے دشمنوں امريکہ اور مغرب کا مقابلہ کيا جا سکتا ہےاسلام محبت، بھائي چارہ، رواداري اور برداشت کا درس ديتا ہے يہي مسلمانوں کو آپس ميں جوڑتا ہے۔
صدر نے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ امريکہ کے ہاتھ لمبے ہيں اور اس کي زبان بڑي لمبي ہے ليکن مجھے يقين ہے کہ امريکہ پاکستان اور ايران گيس پائپ لائن سمجھوتہ پر اثر انداز نہيں ہوسکے گا۔ مجھے يقين ہے کہ 2014ءتک يہ منصوبہ مکمل ہوگا۔ ہم نے پائپ لائن ايران کي سرحد تک مکمل کرلي ہے اب پاکستان نے اپني سرحد کے اندر گيس پائپ لائن بچھاني ہے۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ پاکستان - ايران گيس پائپ لائن سمجھوتے کے لئے ايران اور کئي دوسرے ملک مالي امداد دينے کے لئے تيار ہيں۔ پاکستان اور ايران کے درميان تعلقات بہت قريبي اور برادرانہ ہيں ہم ايک ثقافت اور خطے کے لوگ ہيں پاکستان کے عوام بہادر اور باصلاحيت ہيں‘ ﷲ نے پاکستان کو با صلاحيت لوگوں‘ پہاڑوں درياوں اور زرخيز زمين سے نوازا ہے پاکستان ايک طاقت ور ملک بن کر ابھرے گا۔