
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد کے ايشيا اور اوقيانوسيہ کے ليے اقوام متحدہ کا اقتصادي کميشن (ESCAP) کے اجلاس ميں شريک وزيروں سے خطاب:
بين الاقوامي امور ميں اقوام متحدہ کے اقتصادي کميشن (ESCAP) کي صلاحيتوں کا استعمال
صدر مملکت نے کے ايشيا اور اوقيانوسيہ کے ليے اقوام متحدہ کا اقتصادي کميشن کے اراکين کو بين الاقوامي رہبري ميں مؤثر ہونے کي طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ ايشيا او اوقيانوسيہ ميں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک اصل ميں ايک تنظيم کا حصہ ہيں لہذہ ايک دوسرے کے ساتھ محبت او بھائي چارے کے بغير اپني زندگي نہيں گزارسکتے.
صدر مملکت نے آج بدھ کو ايشيا اور اوقيانوسيہ کے ليے اقوام متحدہ کا اقتصادي کميشن کے اراکين کے اجلاس ميں کہا کہ ہميں چاہيے کہ اس علاقے سے بڑھ کر وسيع پيمانے پر دنيا ميں سعادت او عادالت کي خاطر کام کريں.
صدرمملکت نے کہا کہ آج کي دنيا ميں ۸۰ کروڑ لوگ فقير ہيں جو اپني روزمرہ زندگي گزارنے کے ليے روٹي بھي نہيں پاسکتے وہ لوگ کبھي بھي انسانيت کي کرامت اور احترام کو نہيں سمجھ سکتے کيونکہ ان کي شخصيت کو ٹھيس پنہچا ہے.
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ آج کل کي سرمايہ داري ميں آمريکہ ۱۶ ہزار ميلن ڈالر سے زيات مقروض ہے اور اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ آيا يہ نقصان آمريکہ خود اٹھائے گا يا دوسرے ملکوں کو اٹھانا پڑے گا.
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ايک نئي دنيا بننے کي راہ ميں سب سے بڑي روکاوٹ انساني معاشرے ميں انسانوں کو ايک دوسرے سے ساتھ لڑنا ہے.
صدر مملکت نے اس بات کي اشارہ کرتے ہوے کہ ابھي تک يہ معلوم نہيں کہ مادي انسان کب ايک مطمئن نقطے تک پہنچ جائے گا اور مادي نقطہ نظر سے کاميابي تک پہنچنا ايک سراب کي مانند ہے.
محمود احمد نژاد نے مزيد کہا کہ کاميابي تک پہنچنے کے ليے انسانوں کو محبت اور بھائي چارے کے ساتھ آپس ميں مل کرزندگي گزارني چاہے. ليکن اس ہدف تک پہنچنے کے ليے ضروري ہے کہ دنيا پر ايسے لوگ حاکم ہوجائے جو ہر لحاظ سے دوسروں سے بہتر ہوں تا کہ وہ سب کو آپس ميں محبت کے ساتھ رہنے کے ليے تيار کرے.
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر تاکيد کي کہ ايک چھوٹے سے گھرانے ميں بہي محبت پيدا کرنے کے ليے ضروري ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے کي خير اور صلاح کے ليے کوشاں ہوں.
محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ہميں چاہيے کہ تمام انسانوں کو احترام کي نگاہ سے ديکھيں او خود کو ان کا ايک فرد تصور کريں اور سب کي فلاح اور بہبودي کے ليے کوشش کريں.