ڈيموکرسي فورم کے پانچويں اجلاس سے صدر کا خطاب: ڈيموکرسي کے ذريعہ سے بہترين اور صالح قيادت برسراقتدار آسکتي ہے/صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ڈيموکرسي کے ذريعہ سے صالح قيادت برسراقتدار آسکتي ہے- <br />
بد 15 May 2013 - 10:31

يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے جو اس وقت غيروابستہ تحريک کے چيئرمين بھي ہيں؛ آج جمعرات کو انڈونيشا کے شہر بالي ميں عالمي ڈيموکريسي فورم کے پانچويں اجلاس ميں خطاب کرتے ہوئے کہي-

ڈيموکرسي فورم کے پانچويں اجلاس سے صدر کا خطاب:

ڈيموکرسي کے ذريعہ سے بہترين اور صالح قيادت برسراقتدار آسکتي ہے/صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ڈيموکرسي کے ذريعہ سے صالح قيادت برسراقتدار آسکتي ہے-

يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے جو اس وقت غيروابستہ تحريک کے چيئرمين بھي ہيں؛ آج جمعرات کو انڈونيشا کے شہر بالي ميں عالمي ڈيموکريسي فورم کے پانچويں اجلاس ميں خطاب کرتے ہوئے کہي-

خبر کا کوڈ: 43273 - 

جمعرات 08 November 2012 - 08:02

اس اجلاس ميں پچاس ملکوں کے سربراہان مملکت اور اعلي حکام شريک ہيں-

صدر مملکت نے اپنے خطاب ميں کہا کہ آج ڈيموکريسي ہي انساني سماج کا جديد ترين طريقہ ہے جس کے ذريعہ سے بہترين اور صالح قيادت برسراقتدار آسکتي ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقيقي جمہوري حکومت ميں حکام کو چاہئے کہ وہ انصاف اور آزادي کے قيام کے لئے خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھيں اور اس مقصد کے حصول کے لئے حکومت کي تمام تر توانائيوں اور صلاحيتوں سے استفادہ

کريں۔

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں سرزمين فلسطين پر غاصبانہ قبضے اور فلسطيني قوم کي در بدري اور ان کو جيلوں ميں قيد رکھے جانے کو آج کي دنيا ميں سامراج اور انساني حقوق کي پامالي کاواضح ثبوت قرارديا اور کہا کہ عراق افغانستان اور پاکستان ميں لشکر کشي اور ہوائي حملے اور قوموں کي آزادي اور ان کے بنيادي حقوق کي پامالي کے ساتھ ساتھ عوام کو طاقت کے ذريعے کچل دينے کا عمل نئے سامراج اور قوموں کے حقوق کي پامالي کے چند ايک نمونے ہيں -

انڈونيشيا کے شہر بالي ميں ڈيموکريسي فورم کے اجلاس کے انعقاد کا مقصد جس کي صدارت مشترکہ طور پر انڈونيشيا اور جنوبي کوريا کے صدور اور آسٹريليا کے وزير اعظم کررہے ہيں، امن و جمہوريت کے ميدان ميں علاقائي اور بين الاقوامي تعاون کو زيادہ سے زيادہ بہتر بنانا اور اجلاس کے شرکا کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرنا ہے –

اسلامي جمہوريہ ايران چونکہ اس وقت غير وابستہ تحريک کاسربراہ ہے اور اسي کے ساتھ اس کو علاقائي وعالمي سطح پر جم‍ہوريت کي تقويت کے سلسلے ميں اپني ذمہ داري کو پورا احساس ہے اس لئے عالمي ڈيموکريسي فورم کے پانچويں اجلاس ميں اس نے اعلي ترين سطح پر شرکت کي ہے -

درحقيقت چونکہ بالي اجلاس کے مذاکرات کا اصل موضوع جمہوريت اور امن کو تقويت پہنچانا ہے ايران نے جو علاقے اور عالمي سطح پر عوامي حکومت کے قيام ميں پيش پيش ہے جمہوريت کي سربلندي اور اس کي ترقي کے لئے اس اجلاس

ميں شريک ہے –

اسي لئے ايران کے وفد نے اس اجلاس ميں آج کے انسان کے ضرورتوں کے پيش نظر تہران کے موقف کي تشريح کرتے ہوئے اس نکتے کي طرف اشارہ کيا ہے کہ جمہوريتيں بہت سي تہذيبوں اور ثقافتوں کے ساتھ فرق کرتي ہيں اسي لئے ہر علاقے اور ہر براعظم کے عوام اور قوموں کي تہذيبوں کے اعتبار سے ہي وہاں کا طرز حکومت متعين ہونا چاہئے جو جمہوري بھي ہو اور

مقامي اور علاقائي ثقافت سے منافات بھي نہ رکھتا ہو-



خبر کا کوڈ: 43273  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے