صدر احمدي نژاد کا شہرہ آفاق شاعر خواجہ حافظ شيرازي کي ياد ميں منعقدہ تقريب سے خطاب: حافظ شيرازي روح اور باطن کي اصلاح کو کمال وسعادت تک پہنچنے کا ذريعہ سمجھتے تھے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:48
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ جو لوگ نسلي، قومي اور جغرافيائي حدود سے بڑھ کر سوجتے ہيں وہ عالمگير شخصيت بن کر پورے انساني معاشرے کے کام آتے ہيں۔

صدر احمدي نژاد کا شہرہ آفاق شاعر خواجہ حافظ شيرازي کي ياد ميں منعقدہ تقريب سے خطاب:

حافظ شيرازي روح اور باطن کي اصلاح کو کمال وسعادت تک پہنچنے کا ذريعہ سمجھتے تھے-

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ جو لوگ نسلي، قومي اور جغرافيائي حدود سے بڑھ کر سوجتے ہيں وہ عالمگير شخصيت بن کر پورے انساني معاشرے کے کام آتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 42846 - 

جمعه 19 October 2012 - 23:28

يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج جمعہ کو حافظ شيرازي کي ياد ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کہي-

انہوں نے کہا کہ جب حافظ شيرازي کے بارے ميں گفتگو ہوتي ہے تو وہ صرف حافظ کي نہيں بلکہ تمام انساني کمالات اور حقيقت و معرفت کي گفتگو ہوتي ہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ حافظ شيرازي نے پوري زندگي انسان کامل کي شناخت اور اس تک پہنچنےکي کوشش ميں گزاري، وہ اس راستے ميں اس مقام پر فائز ہوئے کہ راہ معرفت کے متلاشيوں کيلئے مشعل راہ بن گئے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ حافظ شيرازي انسان کي خدائي فطرت کو تمام اسمائے الٰہي کي تجلي گاہ اور انسان کے دل کو تمام خوبيوں اور حقائق کا مرکز سمجھتے تھے، وہ انسان کے ظاہر سے ماوراء انسان کے باطن پر خاص توجہ ديتے اور يہي اس کي کاميابي کا اصلي راز ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حافظ شيرازي انسان کے دل اور باطن کو جام جہاں نما سمجھتے تھے يعني حافظ کا نظريہ يہ تھا کہ دل اور باطن کے ذريعے تمام علوم اور حقائق پر دسترسي حاصل کي جاسکتي ہے۔

سولہواں جشن حافظ شيرازي جمعے کي رات شيراز ميں خواجہ حافظ کے مزار پر منعقد ہوا جس ميں صدر مملکت ، ايران کي علمي و ادبي شخصيات اور مختلف ملکوں کے سيفروں نے شرکت کي -



خبر کا کوڈ: 42846  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے