کويت ميں اخبارات و جرائد کے مديروں کے ساتھ پريس کانفرنس: اسلامي جمہوريہ ايران خيلج فارس کے امن اور سلامتي کو اپنا امن اور سلامتي سمجھتا ہے/ امريکا کے پاس عالمي سطح پر طاقت اور اسلحے کے علاوہ کوئي اور ہتھيار نہيں ہے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:48
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران پوري تاريخ ميں علاقے کے ملکوں کي سلامتي کاضامن رہا ہے-

کويت ميں اخبارات و جرائد کے مديروں کے ساتھ پريس کانفرنس:

اسلامي جمہوريہ ايران خيلج فارس کے امن اور سلامتي کو اپنا امن اور سلامتي سمجھتا ہے/ امريکا کے پاس عالمي سطح پر طاقت اور اسلحے کے علاوہ کوئي اور ہتھيار نہيں ہے-

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران پوري تاريخ ميں علاقے کے ملکوں کي سلامتي کاضامن رہا ہے-

خبر کا کوڈ: 42808 - 

بد 17 October 2012 - 22:18

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ دشمن طاقتيں اپنے زير کنٹرول جھوٹے پرويگنڈوں کے ذريعہ علاقائي ممالک کے درميان اختلاف و تفرقہ پيدا کرکے خطے ميں اپني موجودگي کو طول دينا چاہتے ہيں-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے علاقائي ممالک سے اپيل کي کہ وہ علاقے کے ملکوں کے درميان دوستي اور بھائي چارے کو مضبوط بنانے کيلئے عملي اقدامات کريں کيونکہ خليج فارس ميں کسي بھي طرح کي بدامني پورے خطے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگي۔

ان خيالات کا اظہار صدر مملکت نے آج بدھ کو کويت ميں اخبارات و جرائد کے مديروں کے ساتھ پريس کانفرنس ميں کيا-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايشيائي ممالک کو عظيم تمدن کے حامل قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايشيائي ممالک باہمي تعاون سے عالمي مسائل ميں اہم کردار ادا کر سکتے ہيں۔

انہوں نے موجودہ عالمي نطام پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمي نطام ناکارہ اور فرسودہ ہو چکا ہے اور وہ لوگوں کو عدل و انصاف اور امن و آسائش فراہم کرنے سے عاجز آچکا ہے۔

انہوں نے مزيد کہا کہ صيہوني اور امريکي حکام بعض مواقع پر دھمکي آميز بات کرتے ہيں اور ايران بھي ان دھمکي آميز باتوں کا منہ توڑ جواب ديتا ہے کيونکہ اگر ہم صيہونيوں کو جواب نہ ديں تو وہ علاقے کي قوموں کے گھروں کے اندر داخل ہونا چاہتے ہيں اور يہ جواب درحقيقت علاقے کي سلامتي کے ليے ہے۔

صدر احمدي نژاد نے اس پريس کانفرنس ميں کہاکہ شام کے عوام کے حقوق کا مکمل طور پر احترام اور قومي مفاہمت کے زيرسايہ اس ملک ميں آزادانہ انتخابات کرايا جانا چاہئے –

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايک ملک کو انتظام چلانے کے لئے سيکڑوں سال کي ضرورت ہوتي ہے اور شام کے عوام کو آپسي دوستي اور بھائي چارے کے ماحول ميں زندگي بسر کرنے کا حق ملنا چاہئے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايک سوال کے جواب ميں کہاکہ ہم نے باکو ميں ترکي کے وزير اعظم سے ملاقات ميں اس بات پر زور ديا گيا کہ ايران اور ترکي کو مل کر شام ميں بحران کو پرامن طريقے سے حل کرنے کي کوشش کي جاني چاہئے-

ايران کے صدر نے بين الاقوامي تعلقات ميں امريکا کے کردار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج عالمي تعلقات کے ميدان ميں امريکا کے پاس طاقت اور اسلحے کے علاوہ کوئي اور منطق نہيں ہے ۔



خبر کا کوڈ: 42808  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے