
ائي سي او تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر صدر مملکت نے سات تجاويز پيش کئے:
رکن ممالک کے مابين باہمي تعاون کے فروغ کے لئے سياسي، اقتصادي اور علمي و تحقيقاتي شعبوں کے الگ الگ فورم بنائے جائيں-
صدر احمدي نژاد نے او ائي سي کے سربراہي اجلاس سے خطاب ميں تجويز پيش کي ہے کہ ائي سي او تنظيم کے رکن ملکوں کے درميان دوطرفہ اور بين الاقوامي سطح پر تعاون کے فروغ کے لئے سياسي، اقتصادي اور علمي و تحقيقاتي شعبوں کے الگ الگ فورم بنائے جائيں تاکہ رکن ملکوں کے مفادات زيادہ سے زيادہ مقدار ميں پورے ہو سکيں۔
يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج منگل کو جمہوريہ آذربائجان کے دارالحکومت باکو ميں ائي سي او تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر خطاب کے دوران کہي-
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ گذشتہ دو دہائيوں کے دوران دنيا پر حکمفرما سرمايہ دارانہ نظام کي نااہلي اور اس کا امتيازي رويہ سب پر واضح اور اشکار ہوچکا ہے-
انہوں نے کہا کہ دنيا کي سبھي قوميں موجودہ صورتحال سے تنگ آچکي ہيں اور دولت و ثروت کے عالمي مراکز سے ان کا اعتماد اٹھ چکا ہے کيونکہ آيندہ بھي ان مراکز کي اصلاح کي کوئي توقع اور اميد نہيں ہے-
صدراحمدي نژاد نے کہا کہ ائي سي او تنظيم ميں حکومتي اور پرائيويٹ سيکٹر کي شراکت سے اقتصادي شعبے کي تشکيل سے رکن ملکوں کے تعاون کو مل سکتا ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ائي سي او کے رکن ملکوں کے مابين اقتصادي ، صنعتي اور زرعي شعبوں ميں تعاون کے فروغ کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ کسٹمز قوانين ميں ہماہنگي اور سائنس و ٹکنالوجي کے شعبوں ميں تعاون کي توسيع رکن ممالک کي سب سے اہم اور بنيادي ذمہ داري ہے۔
انہوں نے خطاب کے اخر ميں کہا کہ بہت جلد اس سياہ و تاريک دَور کا خاتمہ ہوگا اور روشن و تابناک دور شروع ہو جائےگا، يہ تب ہوگا جب امام مہدي (ع) حضرت عيسي (ع) کے ہمراہ عدل و انصاف کےاصولوں پر مبني عالمگيرحکومت کي بنياد رکھے گا۔