
صدر مملکت کا "
الجزيرہ ٹي وي نيٹ ورک" کو انٹريو:
بيروني طاقتيں شام کي عوام پر زبردستي کوئي نظام مسلط نہيں کر سکتيں-
صدر احمدي نژاد نے دونوں فريقوں کے درميان مذاکرات اور گفتگو کو شام ميں جاري کشيدگي کے خاتمے کا بنيادي راہ حل بتايا ہے اور کہا ہے کہ بيروني طاقتيں شام کي عوام پر زبردستي کوئي نظام مسلط نہيں کر سکتيں۔
تفصيلات کے مطابق صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے دورہ نيويارک کے موقع پر الجزيرہ ٹي وي نيٹ ورک کو ايک انٹريو ميں موجودہ عالمي نظام پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمي نظام کي سب سے بڑي خرابي يہ ہے کہ اس نظام ميں بدعنوان صہيوني حکومت بھي ايران جيسے مہذب اور متمدن ملک کو دھمکياں دے رہي ہے-
ہميں صہيوني حکومت کے حاليہ دھمکيوں سے کوئي تشويش نہيں لاحق نہيں ہے کيونکہ ہم جانتے ہيں کہ صہيوني حکومت اپني آخري سانسيں لے رہي ہے- اب صہيوني حکمران ايسے اشتعال آنگيز بيانات کے ذريعہ خطے ميں کشيدگي پيدا کرکے اپني بقاء کيلئے راہ ہموار کي کوشش کر رہے ہيں۔
صدر مملکت نے کہا کہ باغيوں کي حمايت سے شام کي صورتحال مزيد خراب ہو رہي ہے لہذا مغربي ممالک کو ان کي حمايت کے بجائے دونوں فريقوں کے درميان مذاکرات کيلئے آمادہ کرنا چاہيے تا کہ وہاں آزادانہ انتخابات منعقد کئے جاسکيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران اور مصر تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر کے درميان دوستانہ روابط پائے جاتے ہيں اور عنقريب ہي دونوں ملکوں کے درميان سياسي روابط بحال ہو جائيں گے۔