
صدر مملکت کي سي اين اين کے صحافي فريد ذکريا سے بات چيت:
مغربي ممالک کي افواج کي موجودگي سے خطے ميں کشيدگي بڑھ گئي ہے-
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ہمسايہ ممالک کے باہمي تعاون سے خطے ميں امن و امان بحال ہو سکتا ہے جبکہ مغربي ممالک کي موجودگي خطے ميں امن و امان کے قيام ميں سب سے بڑي رکاؤٹ ہے۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے نيويارک ميں اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع پر سي اين اين کے خبرنگار فريد ذکريا کو ايک انٹريو ميں کہي-
انہوں نے کہا کہ 1+5 گروپ سے مذاکرات کے دوران اسلامي جمہوريہ ايران نے بہت اہم تجاويز پيش کيے تھے کہ اميد ہے ان پر عمل درآمد کي صورت ميں ايران کے ايٹمي مسئلے کے حوالے سے نہايت مثبت اقدامات اٹھائے جائيں گے۔
صدر احمدي نژاد نے صہيوني حکومت کي طرف سے ايران کے خالف حاليہ دھمکيوں کے حوالے سے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے اب تک کسي جنگ ميں پہل نہيں کي تاہم اگر ہمارے خلاف حملہ ہوا تو اسلامي جمہوريہ ايران اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔
صدر مملکت نے سي اين اين سے بات چيت کے دوران شام ميں امن کي بحالي حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ شام کے موجودہ سربراہ جناب بشار اسد کا استعفيٰ مسئلے کا حل نہيں ہے بلکہ شام ميں جاري کشيدگي کے خاتمے کيلئے بہتر تجويز يہ ہے کہ وہاں دونوں فريقوں کے درميان پرامن مذاکرات کيلئے راہ ہموار کر لينا چاہيے تاکہ وہاں آزادانہ انتخابات منعقد کئے جا سکيں۔
انہوں نےايک مرتبہ پھر اس بات پر زور ديا کہ شام سميت پورے خطے ميں امن و استحکام کي بحالي ميں سب سے بڑي رکاؤٹ خليج فارس ميں مغربي ممالک کے بيڑے ہيں جنہوں نے پورے خطے ميں دہشت اور بدامني پھيلائي ہے لہذا مغربي ممالک کي مسلح افواج کو يہ علاقہ چھوڑ دينا چاہيے۔