صدر احمدي نژاد کي نيوياک سے واپسي پر صحافيوں سے بات چيت: اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کے دوران موجودہ عالمي نظام کي اصلاح کے حوالے سے بہتر تجاويز پيش کئے گئے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:40
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر احمدي نژاد نے نيويارک کے دورے کو انتہائي کامياب قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کے دوران موجودہ عالمي نظام کي اصلاح کے حوالے سے بہتر تجاويز  پيش کئے ہيں جن پر عمل درآمد کي صورت ميں دنيا پر مفيد اور کارآمد نظام حکمفرما ہو جائے گا۔

صدر احمدي نژاد کي نيوياک سے واپسي پر صحافيوں سے بات چيت:

اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کے دوران موجودہ عالمي نظام کي اصلاح کے حوالے سے بہتر تجاويز پيش کئے گئے-

صدر احمدي نژاد نے نيويارک کے دورے کو انتہائي کامياب قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کے دوران موجودہ عالمي نظام کي اصلاح کے حوالے سے بہتر تجاويز پيش کئے ہيں جن پر عمل درآمد کي صورت ميں دنيا پر مفيد اور کارآمد نظام حکمفرما ہو جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 42335 - 

جمعه 28 September 2012 - 18:54

يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے نيويارک سے واپسي پر تہران کے مہر آباد ائير پورٹ پر صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہي-

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ايک اہم بين الاقوامي مرکز ہے جہاں تمام عالمي مسائل ميں نظريات بيان کئے جاسکتے ہيں.

صدر احمدي نژاد نے دورہ نيويارک کي تفصيلات بتاتے ہوئے کہا کہ ميں نے نيويارک ميں اپنے قيام کے دوران دو اہم اجلاسوں سے خطاب کيا؛ جن ميں سے پہلا خطاب "آئين کي بالادستي" کے زير عنوان منعقدہ اجلاس سے تھا جبکہ ہمارا دوسرا خطاب اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي سے تھا کہ ان دونوں تقريروں ميں اہم بين الاقوامي مسائل اور اقوامِ عالم کو درپيش مشکلات پر تفصيلي گفتگو ہوئي اور موجودہ عالمي نظام کي اصلاح کي ضرورت پر زور ديا گيا۔

صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ حالات ميں جب يہ دنيا ايک تاريخي دور سے نکل کے نئے دور ميں داخل ہو رہي ہے اس قسم کے بڑے اجتماعات ميں ايران کي مشارکت ايک قومي فريضہ اور وقت کي ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حاليہ دورے ميں مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران موجودہ عالمي مسائل کے حوالے سے ايراني موقف کي نہايت شفاف طريقے سے وضاحت کي گئي۔

انہوں نے اس دورے ميں اپني سرگرميوں کي مزيد تفصيلات بتاتے ہوئے کہا کہ ميں نے اس دورے ميں بارہ مختلف بين الاقوامي ذرايع ابلاغ سے بات چيت کے علاوہ ايک پريس کانفرنس ميں بھي شرکت کي جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتبِ فکر کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھي چلتا رہا جن ميں سے آٹھ سياسي رہنماؤں، امريکا ميں مقيم ايرانيوں، مختلف امريکي گروہوں جيسے جنگ مخالف تنظيموں اور صہيونزم مخالف يہودي تنظيموں کے نمائندوں سے ملاقاتيں قابلِ ذکر ہيں۔



خبر کا کوڈ: 42335  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے