امريکہ کي مختلف يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور سٹوڈنٹس کي صدر احمدي نژاد سے ملاقات: مغربي ممالک کي موجودگي خطے ميں ديرپا امن کے قيام ميں سب سے بڑي رکاؤٹ ہے
جمعرات 16 May 2013 - 12:18
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر احمدي نژاد نے خطے ميں مغربي ممالک کي موجودگي پر سخت تنقيد کرتے ہوئے انہيں خطے ميں جاري کشيدگي کا ذمہ دار ٹھرايا ہے۔

امريکہ کي مختلف يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور سٹوڈنٹس کي صدر احمدي نژاد سے ملاقات:

مغربي ممالک کي موجودگي خطے ميں ديرپا امن کے قيام ميں سب سے بڑي رکاؤٹ ہے

صدر احمدي نژاد نے خطے ميں مغربي ممالک کي موجودگي پر سخت تنقيد کرتے ہوئے انہيں خطے ميں جاري کشيدگي کا ذمہ دار ٹھرايا ہے۔

خبر کا کوڈ: 42326 - 

بد 26 September 2012 - 00:41

تفصيلات کے مطابق صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے جو ان دنوں اقوام متحدہ کي جنرل کونسل کي ۶۷ويں سربراہي اجلاس ميں شرکت کے لئے نيويارک کےدورے پر ہيں، آج پير کو امريکہ کي مختلف يونيورسٹيوں کے اساتذہ اور طلباء سے خطاب ميں کہا کہ مغربي ممالک کي موجودگي خطے ميں پائيدار امن کے قيام ميں سب سے بڑي رکاؤٹ ہے۔

انہوں نے عالمي برادري سے سوال کيا کہ بعض ملکوں کو ديگر ملکوں سے زيادہ حقوق کس بنياد پر حاصل ہيں؟ ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کي تشکيل کے بعد پوري دنيا ميں بدامني بڑھ گئي ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے دنيا کي موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سياست اور اقتدار کے بارے ميں عالمي سطح پر نقطہ نظر بدلنا چاہئيے کيونکہ اقتدار کو معاشرے ميں عدل و انصاف کے فروغ کا ذريعہ بنانا چاہيے تاکہ دنيا سے غربت ، امتياز و تعصب ، جارحيت اور بلا جواز دھمکيوں کا خاتمہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد سے امريکہ ايراني قوم سے دشمني پر تُلا ہوا ہے حالانکہ امريکہ کے ان اقدامات کے نتيجے ميں ايران اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا ہے اور اس نے بہت ہي کم عرصہ ميں خاطر خواہ ترقي کي ہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے ہميشہ دوستي اور امن کا پيغام ديا ہے اور آج تک ہم نے کسي پر جارحيت نہيں کي-

انہوں نے کہا کہ امريکي حکام کو ايرانيوں کے حقوق کے سلسلے ميں انصاف کے مطابق قدم اٹھانا چاہيے اور اگر امريکي حکومت ايسا کرتي ہے تو اسلامي جمہوريہ ايران اس کا خيرمقدم کرے گي اور دونوں ملکوں کے درميان تنازعات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کو صيہوني حکومت کي دھمکيوں سے کسي طرح کا خدشہ لاحق نہيں ہے کيونکہ جو لوگ تاريخ اور جغرافيہ سے واقفيت رکھتے ہيں وہ جانتے ہيں کہ ايران کے خلاف صيہوني حکومت کي حاليہ دھمکياں اسٹراٹيجيک نقطہ نگاہ سے بالکل اہميت نہيں رکھتے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اگر صيہوني حکومت کو لگام لگا دي جاۓ اور فلسطينيوں سے چھينے گئے حقوق واپس دلائے جائيں تو خطے ميں امن و سکون برقرار ہو سکتا ہے۔



خبر کا کوڈ: 42326  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے