
صدر احمدي نژاد کا جاپاني چنيل NHK کو انٹريو:
ايران کو صہيوني حکومت کي دھمکيوں سے کوئي خدشہ لاحق نہيں ہے
شام ميں جاري کشيدگي کے خاتمے کيلئے دونوں فريقوں کو مذاکرات کيلئے تيار کر رہے ہيں
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايراني قوم مشکلات اور سختيوں ميں پلي بڑھي ہے لہذا ہميں صہيوني حکومت کي دھمکيوں سے کوئي خدشہ لاحق نہيں ہے ليکن ہميں افسوس اس بات کي ہے کہ کيوں ايک ملک اقوام متحدہ کے قوانين کا لحاظ کئے بغير دوسروں کو دھمکياں دينے کي جرآت کرتا ہے؟
يہ بات صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے نيويارک ميں اقوام متحدہ کي جنرل کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع پر جاپاني چنيل NHK سے بات چيت کرتے ہوئے کہي-
انہوں نے کہا کہ ہم دنيا ميں ديرپا امن کے قيام کيلئے مناسب راہ حل تلاش کر رہے ہيں۔
انہوں نے ايران کے ايٹمي مسئلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربي ممالک اس مسئلے کو پيچيدہ بنا رہے ہيں ورنہ اس مسئلے ميں ايران کا موقف نہايت صاف و شفاف ہے اور ہم بارھا بين الاقوامي اجلاسوں ميں اپنے موقف کا اظہار کر چکے ہيں کہ ہم پرامن ترقياتي منصوبوں کيلئے ايٹمي توانائي کے خواہاں ہيں۔
انہوں نے شام کي حاليہ صورتحال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران شام ميں جاري کشيدگي کے خاتمے کيلئے دونوں فريقوں کو مذاکرات اور گفتگو کيلئے تيار کر رہا ہے۔
انہوں نے گفتگو کے دوران جاپان کے ساتھ روابط کو تاريخي اور مثبت قرار ديتے ہوئے اس عزم کا اظہار کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ان روابط کو مزيد فروغ دينے کا خواہاں ہے۔