صدر مملکت کي نيويارک ميں بين الاقوامي پريس کانفرنس: اقوامِ متحدہ کا امتيازي رويہ موجودہ عالمي بحران کا باعث بنا ہے- <br />
جمعه 14 December 2012 - 11:40
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر احمدي نژاد نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ايک عالمي ادارہ ہے اور اس کے تمام ارکان کو برابر کےحقوق ملنے چاہئے ليکن ہم ديکھ رہے ہيں کہ اقوامِ متحدہ پر چند ممالک کي اجارہ داري قائم ہے اور انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام اختيارات پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے لہذا اقوام متحدہ کے تمام ارکان کو اس عالمي ادارے کے فيصلوں ميں مشارکت ديني چاہے۔

صدر مملکت کي نيويارک ميں بين الاقوامي پريس کانفرنس:

اقوامِ متحدہ کا امتيازي رويہ موجودہ عالمي بحران کا باعث بنا ہے-

صدر احمدي نژاد نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ايک عالمي ادارہ ہے اور اس کے تمام ارکان کو برابر کےحقوق ملنے چاہئے ليکن ہم ديکھ رہے ہيں کہ اقوامِ متحدہ پر چند ممالک کي اجارہ داري قائم ہے اور انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام اختيارات پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے لہذا اقوام متحدہ کے تمام ارکان کو اس عالمي ادارے کے فيصلوں ميں مشارکت ديني چاہے۔

خبر کا کوڈ: 42305 - 

جمعرات 27 September 2012 - 03:56

ان خيالات کا اظہار صدر احمدي نژاد نے آج بدھ کو نيويارک ميں اقوام متحدہ کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع پر ايک پر ہجوم پريس کانفرنس کے دوران کيا، انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمي نظام ميں بنيادي تبديلي لاني کي ضرورت ہے کيونکہ موجودہ عالمي نظام معاشرے کي ضروريات پوري کرنے سے عاجز آ چکا ہے۔

صدر احمدي نژاد نے ايران امريکا تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ايک دوسرے کے احترام کي بنيادوں پر امريکا کے ساتھ مذاکرات کا خير مقدم کرتا ہے حالانکہ اسلامي جمہوريہ ايران نے امريکا کے خلاف اب تک کوئي معمولي کاروائي نہيں کي جبکہ دوسري جانب امريکا نے ايران کو کمزور رکھنے کيلئے کوئي کسر نہيں چھوڑي ہے۔

صدر احمدي نژاد نے ايران کے خلاف حاليہ پابنديوں پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ استعماري طاقتيں آزاد اور خود مختار ممالک پر اقتصادي پابندياں لگا رہي ہيں جن سے اس ملک کي عوام کو نقصان ہو رہا ہے، اگرانہيں اس ملک کي سياسي پاليسيوں قبول نہيں ہيں تو بھلا اس کا انتقام بيچارے عوام سے کيوں ليا جاتا ہے؟

صدر مملکت نے شام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ شام کے مسائل کے حل کيلئے دو راہِ حل پيش کئے جا سکتے ہيں؛ حکومت مخالف باغيوں کي اسلحہ کے ذريعہ سپورٹ کرکے حکومت کا ٹختہ الٹ ديا جائے يا دونوں فريقوں کے درميان پرامن مذاکرات کيلئے راہ ہموار کي جائے کہ ميري نظر ميں شام کے اندر ديرپا امن کے قيام کيلئے دوسرا راہِ حل مناسب ہے اور اس سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران ہر قسم کے تعاون کيلئے تيار ہے۔



خبر کا کوڈ: 42305  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے