آسماني اديان اور سماجي فلاحي تنظيموں کے رہنماؤں کي صدر احمدي نژاد سے ملاقات: موجود عالمي نظام کي اصلاح ميں مذھبي رہنما بہت اہم اور بنيادي کردار پيش کر سکتے ہيں<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:39
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ کسي بھي معاشرے کے فلاح و بہبود کيلئے ضروري ہے کہ اس معاشرے کے افراد ايک دوسرے کي نسبت عشق اور پيار و محبت کا جذبہ رکھتے ہوں۔

آسماني اديان اور سماجي فلاحي تنظيموں کے رہنماؤں کي صدر احمدي نژاد سے ملاقات:

موجود عالمي نظام کي اصلاح ميں مذھبي رہنما بہت اہم اور بنيادي کردار پيش کر سکتے ہيں

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ کسي بھي معاشرے کے فلاح و بہبود کيلئے ضروري ہے کہ اس معاشرے کے افراد ايک دوسرے کي نسبت عشق اور پيار و محبت کا جذبہ رکھتے ہوں۔

خبر کا کوڈ: 42303 - 

بد 26 September 2012 - 13:34

يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج منگل کو نيويارک ميں اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع پر آسماني اديان اور سماجي تنظيموں کے رہنماؤں سے ملاقات کےدوران کہي-

صدر احمدي نژاد نے انساني تخليق کے مقصد پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے انسان کو اس لئے پيدا کيا ہے کہ وہ کمال و عروج کے مراتب طے کرتا ہوا روئے زمين پر اللہ تعاليٰ کا خاص نمائندہ بن جائے۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ تمام انبياء پوري زندگي معاشرے ميں عدالت کے اجراء کيلئے سرگرمِ عمل تھے اور آج ان انبياء کے سچے پيروکار ہونے کے ناطے ہمارے سامنے صرف ايک ہي راستہ بچا ہے وہ يہ ہے کہ ہم انبياء کي سيرت اور ان کے تعليمات پر عمل کرنے کو اپني زندگي کا حصہ بنا ڈاليں

صدر مملکت نے ايران کے ايٹمي مسئلے کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ يہ مسئلہ صاف اور روشن ہے اور اس مسئلے ميں کسي بھي قسم کا ابہام نہيں پايا جاتا ليکن مغربي ممالک اسلامي جمہوريہ ايران سے دشمني اور عناد کي بنياد پر اس مسئلے کو اچال رہے ہيں۔

انہوں نے توھينِ رسالت کے حاليہ واقعے کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے پيجھے صہيوني حکومت کا ہاتھ ہے اور اس سے بدتر يہ کہ اب مغربي ذرايع ابلاغ ايسے گستاخانہ اقدامات کو آزادي بيان کا رنگ دے کر قانوني جواز پيش کرنے کي کوشش کر رہي ہيں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمي نظام کي اصلاح ميں مذھبي رہنماؤں کو اہم اور بنيادي کردار ہے کيونکہ ہر فرقے اور ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے رہنما اپني تمام تر اندروني اختلافات کے باوجود معاشرے کي اصلاح ميں عدالت کے اجراء کو ضروري سمجھتے ہيں لہذا اميد ہے کہ اگر کسي دن مذھبي رہنما اپنے پيروکاروں کو اس مشترکہ پليٹ فارم پر اکھٹا کرنے ميں کامياب ہو جاتے ہيں تو عالمي معاشرہ خود بخود اصلاح ہو جائے گا۔



خبر کا کوڈ: 42303  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے