اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع صدر کا خطاب: بين الاقوامي فيصلوں ميں تمام ممالک کي مشارکت اور تعاون لازمي ہے-<br />
جمعرات 13 December 2012 - 13:35
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج بدھ کو نيويارک ميں اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس سے خطاب کے دوران قومي سلامتي کونسل کے کردار پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کي سلامتي کونسل اپنا وقار کھو چکي ہے اور وہ چند استعماري حکومتوں کے زيرِ سايہ کام کر رہي ہے لہذا بين الاقوامي فيصلوں ميں تمام ممالک کي مشارکت اور تعاون لازمي ہے۔

اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع صدر کا خطاب:

بين الاقوامي فيصلوں ميں تمام ممالک کي مشارکت اور تعاون لازمي ہے-

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج بدھ کو نيويارک ميں اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس سے خطاب کے دوران قومي سلامتي کونسل کے کردار پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کي سلامتي کونسل اپنا وقار کھو چکي ہے اور وہ چند استعماري حکومتوں کے زيرِ سايہ کام کر رہي ہے لہذا بين الاقوامي فيصلوں ميں تمام ممالک کي مشارکت اور تعاون لازمي ہے۔

خبر کا کوڈ: 42302 - 

بد 26 September 2012 - 19:52

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ حضرت آدم (ع) سے ليکر آج تک انساني معاشرہ سعادت کے حصول کيئے کوشاں ہے اور ہر دور ميں سامراجي سوچ رکھنے والے افراد معاشرے کي ترقي ميں رکاؤٹ بنے ہوئے ہيں جبکہ بہت ہي کم عرصہ کيلئے آزادي کي تحريکيں کاميابي سے ہمکنار ہوئي ہيں-

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تاريخ کا مطالعہ کرنے سے يہ باتيں روشن ہو جاتي ہيں کہ اگر اقوامِ عالم پر صليبي جنگيں مسلط نہ کي جاتيں اور پہلي اور دوسري جنگِ عظيم ميں لاکھوں بے گناہ افراد کا خون نہ بہايا جاتا اور اگر ۱۱ستمبر کے بہانے عراق اور افغانستان پر قبضہ کرکے وہاں کے ہزاروں افراد کو اپنے وطن سے دور پرديس ميں آوارگي کي زندگي گزارنے پر مجبور نہ کئے جاتے اور اگر۱۱ ستمبر کے پس منظر ميں امريکي حکومت کو مطلوب شخص اسامہ بن لادن کو ملنے کے بعد قتل کرکے دريا کےسپرد کرنے کے بجائے قانون کے کٹہرے ميں پيش کيا جاتا تو آج دنيا کے لوگ ايسے بحراني حالات سے دوچار نہ ہوتے۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اگر عالمي تعلقات ميں سچائي کي حکمراني ہوتي تو تمام اقوامِ عالم يکساں او منصفانہ حقوق کي بنياد پر باہمي مشارکت سے عالمي امور چلاتے اور انسانيت کي فلاح و بہبود کے لئے خدمات انجام ديتے۔

صدر مملکت نے موجودہ عالمي نظام پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ استعماري طاقتيں لشکر کشي، بدامني اور غاصبانہ قبضے کے ذريعہ حساس عالمي مراکز پر اپني گرفت مضبوط بنانا چاہتے ہيں جبکہ اسلحہ کي دوڑ اور ايٹمي ہتھياروں کے استعمال کي دھمکيوں کو عالمي نظام پر مسلط سامراجي طاقتوں نے اپنا وطيرہ بنا رکھا ہے-

صدر احمدي نژاد نے موجودہ عالمي نظام کو اخلاقي اقدار سے عاري اور مادي نظريات پر مبني قرار ديتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمي نظام ناکارہ اور فرسودہ ہوچکا ہے کيونکہ اس نظام ميں خود پسندي، قوموں کي تذليل، دوسروں کے حقوق کي پامالي، تسلط پسندي، اور مختلف قوموں کے درميان تفرقہ انگيزي کو فروغ ملا ہے لہذا موجودہ عالمي نظام کے ڈھانچے ميں بنيادي تبديلي لانے کي ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ويٹو پاور اور قومي سلامتي کونسل پر چند تسلط پسند ممالک کي اجارہ داري قوموں کے حقوق کے تحفظ اور دفاع ميں سب سے بڑي رکاوٹ ہيں-

صدر مملکت نے رسالت مآب (ص) کي شان ميں گستاخي پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمي برادري کي توجہ ايک نہايت حساس نکتے کي جانب مبذول کرائي-

انہوں نے کہا کہ آزادي بيان کے جھوٹے دعووں کے بہانے سے ديني مقدسات کي توھين ہو رہي ہے جبکہ عالمي برادري خاموش تماشائي بني ہوئي ہے، لہذا اس گستاخانہ اقدام کي بين الاقوامي سطح پر مذمت کرني چاہيے۔



خبر کا کوڈ: 42302  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے