
صدر احمدي نژاد کا امريکي چينلز PBS اور CBS کو انٹريو:
امريکا کو ايران سے متعلق پاليسي ميں نظرِثاني کرنا چاہيے-
صدر احمدي نژاد نے صہيوني حکمرانوں کے حاليہ بيانات پر شديد غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صہيوني حکمران ايران کے بارے ميں توھين آميز اور ناذيبا کلمات استعمال کر رہے ہيں لہذا امريکي حکومت کو چاہيے کو وہ ايسے اقدامات کي مذمت کرے اور صہيوني حکمرانوں کي منہ ميں لگام دے تاکہ پھر وہ آيندہ کيلئے اس طرح کے توھين آميز اقدامات کي جرآت نہ کر سکيں۔
انہوں نے شام کے بارے ميں پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ شام ميں سيکورٹي فورسز اور باغيوں کے مابين جاري خانہ جنگي في الفور روکني چاہيے تاکہ وہاں آزادانہ انتخابات منعقد کرنے کيلئے راہ ہموار ہو جائے جبکہ بيروني ممالک کو شام کے اندروني مسائل ميں دخل اندازي سے اجتناب کرنا چاہيے۔
صدر مملکت نے PBS اور CBS کو انٹريو کے دوران اس سوال کے جواب ميں کہ" کيا اسلامي جمہوريہ ايران شام کو اسلحہ سپلائي کر رہا ہے؟" صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اگر شام کي حکومت کو اسلحہ کي ضرورت پڑے تو بين الاقوامي سطح پر اس کے بہت سے ممالک سے قريبي روابط ہيں جو ايران سے پہلے شام کو اسلحہ پہنچا ديں گے البتہ ہمارے درميان بھي عرصہ دراز سے بہت قريبي روابط چلے آئے ہيں لہذا ہميں دونوں فريقوں کے نقصان پر شديد دکھ ہو رہا ہے-
انہوں نے ايران کے خلاف اس الزام کو جھوٹا اور من گھڑت قرار ديا اور کہا کہ مغربي ممالک بين الاقوامي سطح پر ايران کي ساکھ کو نقصان پہنچانے کيلئے ايسے حيلوں اور الزام تراشيوں کا سہارا لے رہے ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ امريکا کو اسلامي جمہوريہ ايران سے متعلق پاليسي ميں نظر ثاني کرني چاہيے کيونکہ دونوں ملکوں کے درميان جاري کشيدگي کے خاتمے کا واحد راستہ يہي ہے کہ امريکا ايران کے حوالے سے اپنے رويے ميں نرمي لائيں۔
صدر مملکت نے ايران کے ايٹمي سرگرميوں کے بارے ميں کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ اب سياسي رنگ اختيار کر چکا ہے کيونکہ اسلامي جمہوريہ ايران بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي سے بھرپور تعاون کر رہا ہے اور اس مسئلے ميں کسي قسم کي ابہام و ترديد موجود نہيں ہے،صدر مملکت نے کہا کہ ايران نيوکلئر ميڈيسن کي تياري کے لئے ايٹمي سرگرميوں پر سالانہ تين سو ملين ڈالر کي رقم خرچ کرتا ہے جبکہ امريکا سالانہ دس ارب ڈالر ايٹم بم بنانے پر خرچ کررہا ہے۔