
صدر احمدي نژاد کا امريکي چينل CNN کو انٹريو:
استعماري طاقتوں کے زور زبردستي اپني بات منوانے کا دور گزر چکا ہے اب اقوامِ عالم آپس ميں دوستي اور پيار و محبت کے ساتھ زندگي گزارنا چاہتے ہيں-
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو آزادي، فيصلوں ميں خود مختاري کا يکساں حق حاصل ہے اور کسي بھي طاقت کو دوسروں سے زبردستي يہ حقوق چھيننے کا حق نہيں پہنچتا- انہوں نے کہا کہ استعماري طاقتوں کے زور زبردستي دوسروں پر اپني بات منوانے کا دور گزر چکا ہے اب اقوامِ عالم اپس ميں دوستي اور پيار و محبت کے ساتھ زندگي گزارنا چاہتے ہيں۔
يہ بات صدر مملکت جناب داکٹر احمدي نژاد نے اقوامِ متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي اجلاس کے موقع پر امريکي چينل CNN کو ايک انٹريو ميں کہي۔
صدر مملکت نے CNN کو انٹريو ميں پيغبراکرم (ص) کي شان ميں حاليہ گستاخي کے ردِ عمل ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کے حوالے سے پوچھے گئےسوال کے جواب ميں کہا کہ ہم اصولي طور پر ہر اس اقدام کي مذمت کرتے ہيں جس سے کسي بھي قوم کے ديني مقدسات کي توہين ہوتي ہو اور جس سے کسي بھي قوم کے لوگوں کے جذبات جروح ہوتے ہوں تاہم ہم اس کے ردعمل ميں تشددآميز اقدامات کے بھي خلاف ہيں-
انہوں نے کہا کہ پيغمبر اسلام اور اسلامي مقدسات کے خلاف جو اقدام کيا گيا ہے وہ بہت ہي گھناؤنا فعل ہے جس کا آزادي بيان سے کوئي تعلق نہيں ہے اور اس قسم کے گستاخانہ اقدامات آزادي بيان کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مصاديق ہيں جو قانوني طور پر جرم شمار ہوتے ہيں-
اس موقع پر امريکي خبرنگار کے اس سوال کے جواب ميں کہ " کيا کہ اس اہانت آميز اقدام کے جواب ميں عالمي سطح پر جاري مظاہرے رکنے چاہئيں يا نہيں؟ " صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ہم اس سلسلے ميں لوگوں پر زبردستي اپني مرضي مسلط نہيں کرسکتے ليکن ہم اتنا ضرور کہيں گے کہ انتہا پسندي انتہا پسندي کو ہي جنم ليتي ہے،انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں ہر آزادي بيان کا حق موجود ہے بشرطيکہ کہ وہ ديني مقدسات کي توہين کا باعث نہ بنے۔
صدر احمدي نژاد نے CNN سے گفتگو ميں ايران کے خلاف صہيوني حکومت کے ممکنہ حملے کے جواب ميں ايران کے ردعمل کے بارے ميں پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ ايران کا جواب بڑا ہي واضح اور روشن ہے اور اس کي وضاحت کي ضرورت نہيں ہے کيونکہ ہر ملک کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے-
انہوں نے مسئلہ فلسطين کے حوالے سے کہا کہ اس سلسلے ميں ہمارا موقف بہت صاف اور روشن ہے، ہم زبردستي دوسروں کي سرزمين پر قبضہ کرنے اور وہاں بلاجواز قتلِ عام کرنے کي مذمت کرتے ہيں اور عالمي برادري سے مطالبہ کرتے ہيں کہ فلسطينيوں سے چھينے گئے حقوق انہيں واپس دلوائے جائيں۔
صدر احمدي نژاد نےشام کي موجودہ صورتحال پر گہرے افسوس کا اظہار کيا اور کہا کہ شام کے موجودہ بحران کا حل يہ ہے کہ وہاں في الفور خانہ جنگي روکي جائے ليکن افسوس کي بات يہ ہے کہ دشمن طاقتيں باغيوں کو اسلحہ کے ذريعہ سے سپورٹ کرکے شام کے حالات مزيد بھگاڑنے کي کوشش کر رہي ہيں۔
انہوں نے کہا کہ ابھي تک ۱۱ ستمبر اور اس کے پس منظر ميں رونما ہونے واقعات کے بارے ميں امريکي عوام کے ذھنوں ميں شک و ترديد پايا جاتا ہے کيونکہ ۱۱ ستمبر کے بہانے سے دو ملکوں پر حملہ کرايا گيا اور وہاں ہزاروں بے گناہ افراد کا خون بہايا گيا تاہم کسي کو بھي ان کاروايئوں کا پس منظر جاننے کي اجازت نہيں ہے، انہوں نے کہا ايک دہشت گرد گروہ کو سرکوب کرنے کيلئے پورے ملک پر قبضہ جمائے رکھنا بين الاقوامي قوانين کے منافي ہے۔
امريکي خبرنگار کے اصرار پر ہولوکاسٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں صدر مملکت نے کہا کہ تمام مغربي ممالک آزادي بيان کے طرفدار ہيں تو ميں اس سلسلے ميں عالمي برادري سے صرف يہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بھلا ہولوکاسٹ کے بارے ميں تحقيق کي اجازت کيوں نہيں ہے؟ تاکہ پوري دنيا کے سامنے واضح ہو جائے کہ تاريخ ميں اس قسم کا واقعہ کب اور کہا رونما ہوا؟ اس کے اسباب اور عوامل کيا تھے؟ اور اس واقعے کو فلسطيني سرزمين پر غاصبانہ قبضہ جمائے رکھنے کے جواز کے طور پر کيوں پيش کيا جاتا ہے؟