صدر احمدي نژاد کي امريکي اخبار " واشنگٹن پوسٹ" سے بات چيت:<br /> اسلامي جمہوريہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں پرامن مقاصد کيلئے ہيں-<br />
جمعرات 16 May 2013 - 12:19
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر احمدي نژاد نے جو ان دنوں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي ميں شرکت کيلئے امريکا کے دورے پر ہيں، نيويارک ميں معروف امريکي اخبار "واشنگٹن پوسٹ" سے بات چيت کي ہے۔

صدر احمدي نژاد کي امريکي اخبار "

واشنگٹن پوسٹ" سے بات چيت:
اسلامي جمہوريہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں پرامن مقاصد کيلئے ہيں-

صدر احمدي نژاد نے جو ان دنوں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے ۶۷ويں سربراہي ميں شرکت کيلئے امريکا کے دورے پر ہيں، نيويارک ميں معروف امريکي اخبار "واشنگٹن پوسٹ" سے بات چيت کي ہے۔

خبر کا کوڈ: 42235 - 

منگل 25 September 2012 - 18:05

صدر مملکت نے امريکي خبرنگار کے صہيوني حکومت کي ممکنہ جارحيت کے ردِ عمل ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران صہيوني حکومت کي دھمکيوں کو کوئي خاص اہميت نہيں ديتا کيونکہ صہيوني حکومت اپنے آپ کو مشکلات کے بھنور سے نکالنے کيلئے ايسے حربے استعمال کر رہي ہے۔

صدر احمدي نژاد نے اسلامي جمہوريہ ايران اور 1+5 گروپ کے درميان مذاکرات کے حوالے سے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ہم مانتے ہيں کہ ايران پر عالمي دباؤ بڑھ رہا ہے ليکن ہم نے مذاکرات کےدوران ايٹمي مسئلے کے حل کيلئے چند اہم تجاويز پيش کئے تھے ليکن اس پر کوئي خاص عمل درآمد نہ ہو سکا جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي اور1+5 گروپ اس مسئلے کو مزيد پيچيدہ بنا رہےہيں۔

امريکي خبرنگار کے اس سوال کے جواب ميں کہ " اگر امريکا اپني فوج افغانستان سے واپس بلاتا ہے تو کيا اسلامي جمہوريہ ايران افغانستان کي تعمير و ترقي کے حوالے سے مزيد تعاون کيلئے تيار ہے؟" صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ يہ ايران سميت تمام ہمسايہ ممالک کا اخلاقي وظيفہ بنتا ہے کہ وہ افغانستان کي تعميرِ نو کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرے۔



خبر کا کوڈ: 42235  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے