امريکي ذرايع ابلاغ عامہ کے ڈائريکٹروں سے صدر مملکت کي خصوصي نشست: ايک دوسرے کے حقوق کا احترام ہي انسانيت کي بقاء کا ضامن ہے-<br />
بد 13 February 2013 - 10:48
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايک دوسرے کا احترام ہي انسانيت کي نجات کا ضامن ہے لہذا ہميں اپس ميں پيار و محبت اور امن و بھائي چارے سے زندگي بسر کرني چاہيےجبکہ زبردستي اپني بات منوانے اور يکطرفہ کاروائيوں کا نتيجہ يقينا شکست کے سوا کچھ بھي نہيں ہے۔

امريکي ذرايع ابلاغ عامہ کے ڈائريکٹروں سے صدر مملکت کي خصوصي نشست:

ايک دوسرے کے حقوق کا احترام ہي انسانيت کي بقاء کا ضامن ہے-

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايک دوسرے کا احترام ہي انسانيت کي نجات کا ضامن ہے لہذا ہميں اپس ميں پيار و محبت اور امن و بھائي چارے سے زندگي بسر کرني چاہيےجبکہ زبردستي اپني بات منوانے اور يکطرفہ کاروائيوں کا نتيجہ يقينا شکست کے سوا کچھ بھي نہيں ہے۔

خبر کا کوڈ: 42194 - 

منگل 25 September 2012 - 19:41

يہ بات صدر احمدي نژاد نے نيويارک ميں پير کي صبح امريکي ذرايع ابلاغ کے ڈائريکٹروں، ايڈيٹروں اور سنئير صحافيوں سے ملاقات کے دوران کہي، انہوں نے کہا کہ تمام انسان سعادت بخش زندگي گزارنے کيلئے ايک دوسرے کے تعاون کے محتاج ہيں اگر کسي معاشرے کے اقتصادي، سياسي اور سماجي روابط کي بنياد عدل و انصاف اور ايک دوسرے کے احترام پر رکھي جائے تو وہ معاشرہ فلاح اور سعادت کي راہ پر گامزن ہو سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ کثرت طلبي اور دوسروں کے مال وثروت کو لالچ کي نگاہ سے ديکھنا دنيا ميں امتيازي رويے، تنازعات اور خانہ جنگي کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے موجودہ عالمي نظام پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات سے تمام اقوام نالاں ہيں لہذا موجودہ نظام ميں بنيادي تبديلي لاني کي ضرورت ہے۔

شام کے بارے ميں پوچھے گئے سوال کے جواب ميں صدر احمدي نژاد نے کہا کہ بيروني مداخلت نے شام کي مشکلات ميں اضافہ کيا ہے لہذا اسلامي اسلامي جمہوريہ ايران شام کے اندروني مسائل ميں دخل اندازي نہيں کرنا چاہتا البتہ ہم شام ميں امن و امان کي بحالي کيلئے ثالثي کا کردار ادا کرنے کيلئے ہر وقت تيار ہيں۔

انہوں نے ايران کے خلاف غاصب صيہوني حکومت کي حاليہ دھمکيوں سے متعلق ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ہم صيہوني حکومت کي دھمکيوں کو خاص اہميت نہيں ديتے البتہ ايران کي عظيم قوم اپنے دفاع کے لئے پوري طرح تيار ہے لہذا اگر دشمن کي جانب سے کسي قسم بھي جارحيت ہوئي تو اس کا منہ توڑ جواب ديا جائے گا-

صدر احمدي نژاد نے آمريکي خبرنگار کے ايران کے ايٹمي مسئلے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا تعجب اس بات کي ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس ايٹمي ہتھياروں کے ڈھير پڑے ہوئے ہيں اب دعوي کر رہے ہيں کہ انہيں امن و سلامتي پر گہري تشويش ہے تو ہم انہيں جواب ديتے ہيں کہ اگر تمھيں امن و سلامتي کي اتني فکر ہے تو تم اپنے ايٹم بم کيوں ضائع نہيں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ درحقيقت اسلامي جمہوريہ ايران کا ايٹمي مسئلہ اب ايک سياسي رنگ اختيار کر چکا ہے کيونکہ ہم نے اس حوالے سے بارھا اپنے موقف کا اظہار کيا ہے کہ ہم ايٹم ہم نہيں بنا رہے بلکہ ہم يٹمي ٹيکنالوجي کو پرامن مقاصد کيلئے چاہتے ہيں۔

صدر احمدي نژاد نے صہيونيوں کي جانب سے گستاخانہ اقدام کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کہ حاليہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ صيہوني خود کو تباہي کے دہانے پر ديکھ رہے ہيں، اس لئے خود کو نجات دلانے کے لئے اس قسم کے گھٹيا اور توہين آميز اقدامات انجام دے رہے ہيں ليکن انہيں خبردار رہنا چاہئے کہ اس قسم کے اقدامات سے انہيں کوئي فائدہ نہيں پہنچے گا۔

صدر مملکت نے مغربي ممالک کي جانب سے ہولوکاسٹ جيسے مشکوک واقعات کے بارے ميں ہر قسم کي تحقيق پر پابندي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دنيا والوں کي ديني اقدارو مقدسات کي توہين کي اجازت دي جاتي ہے وہاں تاريخي واقعات کي تحقيق پر پابندي نہيں ہوني چاہئے ،انہوں نے کہا کہ ہم مغربي ممالک کے رويے ميں واضح تضاد ديکھ رہے ہيں اور وہ يہ ہے کہ ايک طرف تو تاريخي واقعات کے بارے ميں سوال کرنے پر سخت سزا دي جاتي ہے اور اسے جيل بھيج ديا جاتا ہے اور دوسري طرف لوگوں کي ديني اقدار و مقدسات کي توہين کا جواز پيش کرنے کي کوشش کي جاتي ہے-



خبر کا کوڈ: 42194  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے