
چيني پارليمنٹ کي قائمہ کميٹي کے چئرمين کي صدر احمدي نژاد سے ملاقات:
ايران اور چين کے درميان دوطرفہ روابط کے فروغ پر زور
صدر احمدي نژاد نے اسلامي جمہوريہ ايران اور چين کے درميان سياسي، تجارتي اور ثقافتي روابط کے فروغ کي ضرورت پر زور ديا ہے اور کہا ہے کہ اگر تاريخي پس منظر سے ديکھا جائے تو دونوں ملکوں کے درميان عرصہ دراز سے دوستانہ روابط چلے آئے ہيں اور دونوں ممالک ايک جيسي دشمنوں سے برسرپيکار ہيں لہذا ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے حکام کو دوطرفہ روابط کے استحکام کيلئے پوري توانائي خرچ کرني چاہيے۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج منگل کي شام دارالحکومت تہران ميں چيني پارليمنٹ کي قائمہ کميٹي کے چئرمين جناب ووبانگ گو سے ملاقات کے دوران کہي-
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور چين کے تعلقات ميں کوئي منفي پہلو موجود نہيں ہے.
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور چين بين الاقوامي مسائل ميں يکساں طرزِ فکر رکھتے ہيں اور دونوں ملک باطل طاقتوں کے خلاف نبرد آزما ہيں، ايسي باطل طاقتيں جو کسي بھي صورت ميں ہماري پيش رفت اور ترقي نہيں چاہتے اور مسلسل مختلف بہانوں سے ہماري ترقي کي راہ ميں رکاؤٹيں کھڑي کر رہي ہيں-
انہوں نے کہا تعجب اس بات کي ہے کہ يہ سامراجي طاقتيں خود تو ايٹم بم بنا چکي ہيں ليکن ايران جيسے خود مختار اور امن
پسند ممالک پر ايٹم بم بنانے کا الزام لگا کر اس پر دباؤ بڑھانے کي کوششيں کر رہي ہيں۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درميان دوطرفہ روابط کے فروغ پر زور ديا اور کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران چين کے ساتھ تمام شعبوں ميں دوطرفہ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اس وقت دونوں ملکوں کے درميان ۴۵ ارب ڈالر کي تجارت ہے کہ اب ہم دونوں ملکوں کے درميان تجارتي حجم ۱۰۰ ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہيں۔
انہوں نے اخر ميں ايران کے ايٹمي مسئلے کے حوالے سے چين کے موقف کي تعريف کي اور کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران مذاکرات اور گفتگو کو ہي تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے۔
اس موقع پر چين کي قائمہ کميٹي کے چئرمين نے ايٹمي مسئلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کا پانچ + ايک گروپ کے ساتھ بھرپور تعاون کو نہايت مثبت قرار ديا اور کہا کہ چين ايٹمي توانائي کو پرامن مقاصد کيلئے استعمال کرنا تمام ممالک کا قانوني اور اصولي حق سمجھتا ہے۔