
ايران اور تيونس کے صدور کي ملاقات:
شام کي مشکلات کے حل کيلئے ايسي تجويز زيرِ غور لاني چاہيے جسے ديگر ممالک ميں بھي اجراء کيا جا سکے-
يہ بات صدر احمدي نژاد نے سعودي عرب ميں او ائي سي کے سربراہي اجلاس کے موقع پر تيونس کے صدر جناب محمد منصف المرزوقي سے ملاقات کے دوران کہي-
اس ملاقات ميں صدر احمدي نژاد نے سب سے پہلے صدارت کا عہدہ سنبھانے پر محمد المرزوقي کو مبارکباد پيش کيا اور کہا کہ اگرچہ سامراجي طاقتيں تيونس جيسے خود مختار اسلامي ممالک کي ترقي نہيں چاہتے ليکن اسلامي جمہوريہ ايران تيونس کي ترقي و پيشرفت ميں ہر ممکن مدد کيلئے تيار ہے۔
انہوں نے شام ميں جاري کشيدگي پر بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ شام سميت خطے کي موجودہ تمام مشکلات ميں صہيوني حکومت کا ہاتھ ہے جس نے پورے خطے ميں بدامني پھيلائي ہے-
انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے پر سنجيدگي سے غور نہيں کيا گيا تو يہ خطہ مزيد بحران کا شکار ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بين الاقوامي اداروں کو شام کي مشکلات کيلئے ايسي تجويز زيرِ غور لاني چاہيے جسے ديگر ممالک ميں بھي اجراء کيا جا سکے۔
اس موقع پر تيونس کے صدر جناب محمد المرزوقي نے صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کيا اور کہا کہ تيونس اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ تمام شعبوں ميں روابط بڑھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے شام کي موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کيا اور کہا کہ بيروني ممالک کي مداخلت سے حالات قابو سے باہر ہو جائيں گے لہذا دونوں فريقوں کو مل بيٹھ کر مذاکرات اور گفتگو کے ذريعہ سے مسائل کا حل نکالنا چاہيے۔