صدر احمدي نژاد کا فرانسسي ٹيلي ويژن کو انٹريو: مغربي ذرايع ابلاغ ۱۱ ستمبر کے بہانے سے دس لاکھ بے گناہ عراقيوں اور افغانيوں کے خون بہانے پر خاموش تماشائي کيوں ہيں؟<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:33
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے فرانسيسي نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو ميں اس بات کا ذکر کيا ہے کہ خطے ميں رونما ہونے والے حالات عالمي نظام ميں عظيم انقلاب کا پيش خيمہ ثابت ہوں گے-

صدر احمدي نژاد کا فرانسسي ٹيلي ويژن کو انٹريو:

مغربي ذرايع ابلاغ ۱۱ ستمبر کے بہانے سے دس لاکھ بے گناہ عراقيوں اور افغانيوں کے خون بہانے پر خاموش تماشائي کيوں ہيں؟

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے فرانسيسي نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو ميں اس بات کا ذکر کيا ہے کہ خطے ميں رونما ہونے والے حالات عالمي نظام ميں عظيم انقلاب کا پيش خيمہ ثابت ہوں گے-

خبر کا کوڈ: 41768 - 

پیر 10 September 2012 - 16:36

انہوں نے موجودہ عالمي نظام پر سخت تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمي نظام ميں ممالک کے روابط طاقت اور ثروت کي بنيادوں پر جوڑے ہوئے ہيں، حالانکہ ملکوں کو دوطرفہ روابط اقتصادي، ثقافتي اور سياسي بنياديوں پر تشکيل دينا چاہيے-

انہوں نے کہا کہ اگرچہ غير وابستہ تحريک انہي اعليٰ اہداف کو پايہ تکميل تک پہنچانے کيلئے تشکيل ديا گيا ہے اور کئي سالوں سے اپني کوششوں ميں سرگرمِ عمل ہے ليکن عالمي نظام ميں انقلاب لانے کيلئے يہ اقدامات کافي نہيں ہيں بلکہ اس کيلئے طويل جدوجہد کي ضرورت ہے۔

صدر احمدي نژاد نے مغربي ممالک کے اقتصادي بحران کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربي ممالک کے حکام کي غلط پاليسياں موجودہ اقتصادي بحران کا باعث بني ہيں اور اس کا بوج غريب عوام کے کندھوں پر آُپڑا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران مغربي ممالک کي يکطرفہ کاروائيوں پر حيرت زدہ ہے، کيونکہ يہ يکطرفہ کاروائياں ان کيلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوں گي، انہوں نے کہا کہ ہميں اس بات پر تعجب ہے کہ کيوں فرانس سميت ديگر خود مختار مغربي ممالک امريکي پاليسيوں کي زد ميں آ کر اپني حيثيت کھو بيٹھتے ہيں۔

صدر احمدي نژاد نے مغربي ممالک کے ذرايع ابلاغ کے کردار پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ 11 ستمبر کے پس منظر ميں جتنے واقعات رونما ہوئے انہيں ٹھيک طور پر منعکس نہيں کيا گيا-

انہوں نے کہا کہ جب يہ اعلان کيا گيا کہ 11 ستمبر کے حملوں ميں 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہيں تو سب غمگين ہو گئے

اور سب نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردي کيا ليکن جب انسان ملوں کے تناظر ميں ميڈيا کے اقدامات کا بغور جائزہ ليتا ہے تو اس واقعے اور اس کے بعد غاصبانہ قبضوں کے درميان رابطے کا بخوبي اندازہ ہو جاتا ہے-

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايک بہترين عالمي نظام قائم کيا جاسکتا ہے کہاکہ ڈالر سے رابطہ منقطع کرنا اور تسلط پسندانہ نظام کا طلسم توڑنا ايسے بنيادي اقدامات ہيں کہ جن کو عملي شکل دينے ميں ايران پيش پيش رہا ہے ليکن يہ بھي ماننا پڑے گا کہ ابھي طويل راستہ درپيش ہے۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران پر دباؤ بڑھانے اور اس پر پابندياں عائد کرنے سے ايراني قوم کو عزم مزيد مستحکم ہو رہا ہے۔



خبر کا کوڈ: 41768  

- انٹرویو کا مکمل متن