
صوبہ کرمان ميں دو صنعتي پراجيکٹس کي افتتاحيہ تقريب کے دوران صدر کا خطاب:
ايران کو ايراني طرز فکرِ "
جس کا سرچشمہ اعليٰ اسلامي تعليمات ہيں" کي بنياد پر آباد کرنا چاہيے
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اللہ تعاليٰ نے اس سرزمين کو مختلف نعمتوں اور قدرتي ذخاير سے نوازا ہے جن سے ايران کي تعمير و ترقي کيلئے بھرپور فائدہ اٹھايا جا سکتا ہے-
انہوں نے کہا کہ ايرانيوں کو ايراني طرزِ فکر "جس کا سرچشمہ اسلامي ہيں" کي بنياد پر آباد کرنا چاہيے۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج منگل کو صوبہ کرمان ميں دو صنعتي پراجيکٹس کے افتتاح کے دوران کہي، انہوں نے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے اس سرزمين پر بہت خاص کرم فرمايا ہے اور اب ہميں ايران کي سربلندي کيلئے انہي نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہيے-
انہوں نے کہا کہ ہم ايراني طرزِ فکر پر ترقي کا سفر جاري رکھنا چاہتے ہيں، وہ طرزِ فکر جن کي بنياد اسلامي تعلميات پر
رکھي گئي ہيں جبکہ مغربي ممالک کے پيش کردہ ترقي کے معيار کو ہم بالکل اہميت نہيں ديتے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ايرانيوں نے جس اسلامي آئين کاانتخاب کيا ہے اس کي بنياد دوسروں کے حقوق کا احترام اور باہمي رواداري کے اصولوں پر رکھي گي ہے، وہ ہرگز اپني طاقت و توانائي کو ديگر سرزمينوں پر قبضہ جمانے کيلئے استعمال نہيں کرنا چاہتے۔
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ جيسا کہ انقلاب اسلامي کي کاميابي کے دوران امام خميني (رہ) نے فرمايا تھا کہ دشمن طاقتوں کو مايوس کرنے کيلئے ہميں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا اور ملک کي ترقي کيلئے صنعتي ذخاير اور ملکي پيداوار سے فائدہ اٹھانا ہوگا اب بھي ہميں عالمي چيلنجوں کا سامنا ہے اور ان تمام مشکلات سے نمٹنے کيلئے ہميں امام خميني (رہ) کے فرمائشات پر عمل کرنا چاہيے-
انہوں نے کہا کہ اس وقت لوہا توليد کرنے والے ممالک کي فہرست ميں ہم ۱۷ويں پوزيشن پر ہيں، ليکن مجھے يقين ہے کہ ہم نے اس سلسلے ميں اب تک اپني تونائيوں سے فائدہ نہيں اٹھايا لہذا اس سلسلے ميں مزيد تلاش اور کوشش کي ضرورت ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ جب ۷۵ ميلين ايراني متحد ہو کر ايک مقصد کے پيچھے لگ جاتے ہيں تو اس مقصد تک رسائي آسان ہو جاتي ہے اور اس راہ ميں حائل تمام رکاؤٹيں خود بخود دور ہو جاتي ہيں-
انہوں نے اخر ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ حکومت ملک سے بيروزگاري اور رہائش کا مسثلہ ريشہ کن کرنا چاہتي ہے اور اس سلسلے ميں بہت اہم تجاويز ابھي زيرِ غور ہيں۔
ياد رہے صدر احمدي نژاد نے صوبہ کرمان کے اس ايک روزہ دورے ميں ايک بڑے سٹيل ميل اور حکومتي تعاون سے بنائے گئے ۱۱۵۰۰ گھروں کا باقاعدہ افتتاح کيا۔