صدر احمدي نژاد کا قومي ٹيلي ويژن" چينل ون" پرقوم سے براہ راست خطاب:<br /> لوگوں کي سوچ ميں تبديلي لانے سے ہي موجودہ عالمي نظام کي اصلاح ممکن ہے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 11:31
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ تمام اقوام موجودہ عالمي نظام سے نالاں ہيں اور اس نظام کي اصلاح چاہتے ہيں ليکن لوگوں کي سوچ ميں تبديلي لانے سے ہي موجودہ عالمي نظام کي اصلاح ممکن ہے۔

صدر احمدي نژاد کا قومي ٹيلي ويژن"

چينل ون" پرقوم سے براہ راست خطاب:
لوگوں کي سوچ ميں تبديلي لانے سے ہي موجودہ عالمي نظام کي اصلاح ممکن ہے-

صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ تمام اقوام موجودہ عالمي نظام سے نالاں ہيں اور اس نظام کي اصلاح چاہتے ہيں ليکن لوگوں کي سوچ ميں تبديلي لانے سے ہي موجودہ عالمي نظام کي اصلاح ممکن ہے۔

خبر کا کوڈ: 41685 - 

منگل 04 September 2012 - 22:24

يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج منگل کي شام قومي ٹيلي ويژن "چينل ون" پر قوم سے براہِ راست خطاب کے دوران کہي-

انہوں نے غير وابستہ تحريک کے حاليہ اجلاس کي اہميت پر گفتگو کرتے ہوئے غير وابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کو انتہائي اہم اور کامياب قرار ديا اور کہا کہ اس اجلاس کا ايشو " تمام ممالک کي مشارکت سے پائيدار امن کا قيام" بين الاقوامي حلقوں کے توجہ کا مرکز رہا۔

انہوں نے کہا کہ کمال و سعادت تک پہنچنا انسانوں کہ ديرينہ آرزو رہي ہے اور پائيدار امن کے قيام سے ہي يہ آرزو حقيقت ميں بدل سکتي ہے-

انہوں نے موجودہ عالمي نظام پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ آج دنيا پر حکمفرما عالمي نظام نے معاشرے سے امن و سکون چھين ليا ہے اور اس کي بجائے دشمني، ناانصافي اور فقر و تنگدستي کو فروغ ملا ہے، اس کي بنيادي وجہ يہ ہے کہ موجودہ عالمي نظام بالکل ناکارہ اور فرسودہ ہو چکا ہے۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ عالمي نظام پر استعماري طاقتوں کي اجارہ داري اور عالمي نظام چلانے والوں کي تسلط پسندي پائيدار قيامِ امن ميں سب سے بڑي رکاوٹ ہيں-

انہوں نے دنيا پر حکمفرما عالمي نظام کے موجودہ ڈھانچے کوتسلط پسندي کا نظام قرار ديا اور کہا کہ دشمن طاقوں نے ہميشہ اقوام متحدہ اور ديگر بين الاقوامي اداروں کو ذاتي مفادات کے طور پر استعمال کئے ہيں جس سے عالمي نظام ميں ميں بھگاڑ اور حرج و جرج پيدا ہوا ہے لہذا موجودہ عالمي نظام کي في الفور اصلاح ہوني چاہيے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن طاقتوں نے حال اجلاس کو ناکام بنانے کي ہر ممکن کوشش کي ليکن وہ اپنے مقصد ميں ناکام ہو گئے اور غير وابستہ تحريک کا سولہواں اجلاس نہايت کاميابي سے منعقد ہوا۔

صدر احمدي نژاد نے بين الاقوامي صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پوري دنيا ميں بيداري کي لہريں دوڑ گئي ہيں، لوگ موجودہ عالمي نظام سے تنگ آچکے ہيں اور اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ موجوہ نظام انکي فطري ضروريات پوري کرنے سے عاجز اور ناتواں ہے لہذا وہ اس نظام کو گرانے کي کوششوں ميں سرگرمِ عمل ہيں۔

انہوں نے عالمي نظام پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ آج دنيا پر مسلط عالمي نظام نے امن و سکون غارت کرديا ہے اور غربت، دشمني ، ناانصافي اور جعلي لڑائيوں کو فروغ ديا ہے –

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ يہ مشکلات عالمي نظام کوغير مناسب طريقے سے چلانے کا نتيجہ ہے - انہوں نے کہا کہ عالمي نظام پر اجارہ داري اور عالمي نظام چلانے والوں کي تسلط پسندي عالمي امن قائم نہ ہونے کا اہم ترين عامل ہے –

صدر مملکت نے دنيا پر حکمفرما عالمي نظام کے ڈھانچے کو تسلط پسندي کا نظام قرار ديا کہا کہ اقوام متحدہ اور بين الاقوامي اداروں نے ہميشہ تسلط پسندوں کے ايک حربے کے عنوان سے کام کيا ہے اور عالمي امن ميں خلل کي سب سے بڑي وجہ يہي بات ہے –

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ہم سب کو اصلاح کي ضرورت ہے ليکن اس کے مراتب مختلف ہيں اور ہر ايک کو اپني پوزيشن اور کارکردگي کے لحاظ سے اپنے مينجمنٹ اور کارکردگي کي اصلاح کرني چاہئے –

صدر نے ايک بار پھر کہا کہ عالمي نظام کي اصلاح اور اس نظام کو چلانے ميں سب کي مشارکت تمام اقوام کا مطالبہ ہے جس پر توجہ کي ضرورت ہے –

صدرِ مملکت نے المپيک اور پرالمپيک مقابلوں ميں ايراني کھلاڑيوں کي شاندار کارکردگي پر خوشي کا اظہار کيا اور کہا کہ ايرانيوں نے بارھا يہ ثابت کيا ہے کہ وہ کسي بھي ميدان ميں دوسروں سے پيچھے نہيں ہيں، چاہے وہ کھيل کا ميدان ہو يا سائنس و ٹيکنالوجي کا-

انہوں نے کہا کہ اس وقت علمي حوالے سے اسلامي جمہوريہ ايران پورے خطے ميں ٹاپ پوزيشن پر ہے جس پر ہميں فخر ہے، اس کے علاوہ ايران نے بہت ہي کم عرصہ ميں ميڈيکل کے شعبے ميں خاطر خواہ ترقي کي ہے اور تمام تر پابنديوں کے باوجود ايٹمي توانائي حاصل کرنے ميں کاميابي سے ہمارے حوصلے مزيد بلند ہوئے ہيں، ان تمام کاميابيوں کا کريڈٹ ايراني دانشوروں کو جاتا ہے جو اس قوم کي ترقي کيلئے دن رات محنت کر رہے ہيں۔



خبر کا کوڈ: 41685  

- انٹرویو کا مکمل متن