
صدر احمدي نژاد اور فلسطيني صدر محمود عباس کي اپس ميں ملاقات:
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد : مغربي ممالک فلسطين کي حمايت کي وجہ سے ايران پر دباؤ ڈال رہے ہيں-
محمود عباس: فلسطيني قوم کو اس تحريک سے بہت اميديں وابستہ ہيں۔
تفصيلات کے مطابق فلسطيني صدر جناب محمود عباس نے آج جمعرات کو دارالحکومت تہران ميں غير وابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات کي، ملاقات کے دوران صدر احمدي نژاد نے مسئلہ فلسطين کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطين عالمي سطح پر ايک پيچيدہ مسئلہ بن چکا ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي سے ليکر آج تک مسئلہ فلسطين کے حوالے سے اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف ميں کوئي تبديلي نہيں آئي اور ہم ہميشہ اس موقف پر ڈٹے رہے ہيں کہ صہيوني ايک غاصب قوم ہيں جنہوں نے فلسطين کي سرزمين پر اپنا ناجائز قبضہ جمايا رکھا ہے اور ہم نے بين الاقوامي سطح پر بارھا اس موقف کا اظہار کيا ہے کہ فلسطينوں کو اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کرنا چاہيے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کے درميان اتفاق و اتحاد کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اختلافات اور تفرقہ کا شکار رہيں گے ہم دشمنوں کو ہرگز شکست نہيں دے سکتے-
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ انقلاب اسلامي کي کاميابي سے ليکر آج تک صرف فلسطينيوں کي حمايت کي وجہ سے ہم پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہيں ليکن ہم فلسطين سے متعلق اپنے موقف سے ذرا برابر بھي پيچھے ہٹنے کو تيار نہيں۔
فلسطيني صدر جناب محمود عباس نے صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کيا اور کہا کہ مجھے بھي اس بات کا احساس ہے کہ تمام فلسطينيوں کو ايک پليٹ فارم پر اکھٹا ہونا چاہيے کيونکہ جب تک آزادي کي تمام تنظيميں ايک پليٹ فارم پر اکھٹي نہيں ہو جاتيں اس وقت تک ہم صہيونيوں کو اپني سرزمين سے نہيں بھگا سکتے۔