- غير وابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے افتتاح کے موقع پر صدر احمدي نژاد کا خطاب: انتظامِ عالم ميں تمام ممالک کي شراکت اور پائيدار امن کا قيام غير وابستہ تحريک کے اہم مقاصد ہيں-<br />

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ آج قوموں کے عروج کا دن ہے اور آج ہميں غير وابستہ تحريک کے اہداف و مقاصد کا دوبارہ جائزہ لينا چاہيے-

غير وابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے افتتاح کے موقع پر صدر احمدي نژاد کا خطاب:

انتظامِ عالم ميں تمام ممالک کي شراکت اور پائيدار امن کا قيام غير وابستہ تحريک کے اہم مقاصد ہيں-

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ آج قوموں کے عروج کا دن ہے اور آج ہميں غير وابستہ تحريک کے اہداف و مقاصد کا دوبارہ جائزہ لينا چاہيے-

خبر کا کوڈ: 41245 - 

جمعرات 30 August 2012 - 13:20

انہوں نے کہا کہ انتظام عالم ميں تمام ممالک کي شراکت اور پائيدار امن کا قيام غير وابستہ تحريک کے اہم مقاصد شمار ہوتے ہيں جنہيں پايہ تکميل تک پہنچانے کے حوالے سے ہمارے کندھوں پر سنگين ذمہ داري عائد ہوتي ہے-

يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج جمعرات کو دارالحکومت تہران مين سولہويں سربراہي اجلاس کے افتتتاح کے موقع پر کہي، انہوں نے کہا کہ چند استعماري طاقتوں نے پوري دنيا ميں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، آفريقا اور لاطيني آمريکا کے تيل کے زخاير کا سارا پيسہ استعماري طاقتوں سے منسلک چند کمپينوں کے جيب ميں جاتا ہے جبکہ مقامي لوگ بھوک سے مر رہے ہيں۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ تمام اقوام موجودہ حالات سے نالاں ہيں اور موجودہ عالمي نظام ميں آج تک انسان کے تاريخي مشکلات جيسے غربت، حسد، جنگ و دشمني، ففر اور تبعيض کا خاتمہ نہيں ہوا ہے اور نہ ہي انسان کو عشق و محبت، عدل و انصاف اور آزادي و کرامت جيسے الٰہي اقدار کے سائے ميں زندگي گذارنے کا موقع ميسر ہو سکا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل پر چند ملکوں کي اجارہ داري کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس اس بات کي ہے کہ آج پينسٹھ برسوں بعد بھي دنيا کي ساري قوميں فلسطينوں کے پائمال شدہ حقوق پر زور دے رہي ہيں ليکن اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل غاصب صيہوني حکومت کي جارحيت اور ظلم و ستم کا جواز پيش کرنے کے درپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق اور پاکستان ميں بھي عوام بڑے پيمانے پر منصوبہ بندي کے تحت تہ تيغ کئے جا رہے ہيں ليکن اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل اس صورتحال کو بھي قانوني جواز پيش کرنے کي کوشش کر رہي ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ يہي سامراجي طاقتيں اسلحہ فروخت کرنے کے بہانے سے ديگر ممالک پر جنگ مسلط کر رہے ہيں اور اگر بخوبي جائزہ ليا جائے تو تمام عالمي جنايتوں کے پيچھے ان ممالک کا ہاتھ ہے، منشيات کا کاروبار اور دہشت گردي اپنے عروج پر ہے لہذا ان حالات ميں امن و سلامتي کا قيام لوگوں کي ديرينہ آرزو بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب امام مہدي (عج) پردائےغيبت سے جلوہ گر ہوں گے اورحضرت عيسيٰ (ع) کے ہمراہ اس دنيا کا بھاگ دوڑ سنبھاليں گے تب انسانيت کي ديرينہ آرزو حقيقت ميں بدل جائے گي يعني پوري دنيا ميں عدل و انصاف کا چرچا ہوگا، پائيدار امن قائم ہو جائے گا اور لوگ محبت و اخوت کے ساتھ آپس ميں زندگي گزاريں گے۔



خبر کا کوڈ: 41245  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے