
مصر کے صدر محمد مرسي کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
صہيوني حکومت اور ديگر تسلط پسند مغربي ممالک خطے کي سلامتي اور بقاء کيلئے خطرہ ہيں
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ صہيوني حکومت، آمريکا اور ديگر تسلط پسند مغربي ممالک خطے کي سلامتي اور بقاء کيلئے خطرہ ہيں-
انہوں نے اس بات پر زور ديا ہے کہ سامراجي طاقتيں ہرگز آزاد اور خود مختار ممالک کي ترقي اور پيشرفت نہيں چاہتے کيونکہ ان کا ديگر ممالک کے ساتھ دوستي اور دشمني کا معيار انکے ذاتي مفادات ہيں جنہيں وہ عرصہ دراز سے عملي جامہ پہنانے کي کوشش کر رہے ہيں۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج جمعرات کو دارالحکومت تہران ميں غير وابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر مصر کے نئے منتخب صدر جناب محمد مرسي کے ساتھ ملاقات کے دوران کہي، انہوں نے مصر کو عظيم تمدن اور ثقافت کا حامل قرار ديا اور کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر کے درميان مختلف شعبوں ميں کافي زيادہ ہماہنگي پائي جاتي ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران مصر کي ترقي کا خواہاں ہے، انہوں نے اميد ظاہر کي کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر کے باہمي اتحاد سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے شام کے حالات پر بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ شام کے موجودہ مسائل کا بہتر راہ حل يہ ہے کہ وہاں پر بيروني مداخلت کے بغير
شفاف طريقے سے آزاد انتخابات منعقد کئے جائيں، انہوں نے کہا کہ ہميں اپنے مسائل کاحل خود نکالنا چاہيے اورنيٹو سميت ديگر بيروني طاقتوں کو ہمارے اندروني مسائل ميں دخل آندازي کا کوئي حق نہيں۔
مصر کے صدر محمد مرسي نے شام کے موجودہ حالات پر افسوس کا اظہار کيا اور کہا کہ دباؤ اور طاقت کے استعمال سے شام کے حالات ميں مزيد بگاڑ پيدا ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر خطے کي صورتحال ميں بہتري لانے کے حوالے سے نہايت مثبت کردار ادا کر سکتے ہيں۔