
سوڈان کے صدر عمر البشير کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
دشمنوں کے دباؤ اور دھمکيوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا سے ہي موجودہ حالات بہتر ہو سکتے ہيں-
صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ استعماري طاقتيں اسلامي ممالک کے خلاف منصوبے بنا کر کشيدگي پھيلانے کي کوششيں کر رہے ہيں لہذا اب دشمنوں کےدباؤ اور دھمکيوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے ہي حالات بہتر ہوسکتے ہيں۔
يہ بات صدر احمدي نژاد نے بدھ کي شام مکہ مکرمہ ميں او آئي سي کے ہنگامي اجلاس کے موقع پر سوڈان کے صدر جناب عمر البشير کے ساتھ ملاقات کے دوران کہي، انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درميان سياسي سطح پر بہتر تعلقات کا اقتصادي تعلقات پر بھي بہت اچھا اثر پڑا ہے اور دوطرفہ تجارت کے فروغ ميں حائل رکاؤٹوں کو دور کرنے کي کوششيں کي جاري ہيں۔
انہوں نے کہا کہ استعماري طاقتيں ايران اور سوڈان جيسے خود مختار اسلامي ممالک کي ترقي نہيں چاہتے، ان کي ہميشہ يہي پاليسي رہتي ہے کہ جہاں کہيں انہيں کوئي خود مختار اور ترقي پزير اسلامي مملکت ترقي و پيشرفت کي جانب بڑھتا ہوا نظر آتا ہے يہ ان کے خلاف ہر طرف سے دباؤ بڑھانے کي کوشش شروع کرتے ہيں-
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ ہميں اس راہ ميں صبر و استقامت سے کام لينا چاہيے اور جيسا کہ اللہ تعاليٰ کا وعدہ ہے کاميابي عنقريب ہي ہماري قدم چومے گي۔
سوڈان کے صدر جناب عمر البشير نے اس ملاقات ميں ايران ميں ہونے والے حاليہ قيامت خيز زلزلے کي مناسبت تعزيت کا اظہار کيا اور ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درميان اقتصادي روابط ميں توسيع کا مطالبہ کيا- انہوں نے کہا سوڈان کے اندروني مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ايک عرصہ سے جنوبي سوڈان کے ساتھ ہمارے تعلقات ميں بہتري آئي ہے جس کا ہماري ترقي پر بھي کافي مثبت اثر پڑا ہے-
انہوں نے اسلامي ممالک کے خلاف استعماري يلغار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور پابنديوں کے ان کھٹن حالات ميں زندگي گزارنے سے ہم کمزور ہونے کي بجائے مزيد طاقتور و توانا ہو رہے ہيں جو ايک مثبت پہلو ہے۔