او آئي سي کے سربراہي اجلاس کے موقع پر ترکي کے صدر کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات: موجودہ عالمي نظام کے اصلاح کيلئے تمام شعبوں ميں تبديلي لانا ناگزير ہے-
جمعه 14 December 2012 - 11:13
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدر احمدي نژاد نے ترکي صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديا ہے کہ چہروں کي تبديلي سے موجودہ عالمي نظام کا اصلاح ممکن نہيں ہے بلکہ اس فرسودہ نظام کي جگہ اصولوں پر مبني ايک نيا عالمي نظام سامنے کيلئے

او آئي سي کے سربراہي اجلاس کے موقع پر ترکي کے صدر کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:

موجودہ عالمي نظام کے اصلاح کيلئے تمام شعبوں ميں تبديلي لانا ناگزير ہے-

صدر احمدي نژاد نے ترکي صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديا ہے کہ چہروں کي تبديلي سے موجودہ عالمي نظام کا اصلاح ممکن نہيں ہے بلکہ اس فرسودہ نظام کي جگہ اصولوں پر مبني ايک نيا عالمي نظام سامنے کيلئے

خبر کا کوڈ: 40678 - 

جمعرات 16 August 2012 - 00:52

تلاش اور کوشش کرني چاہيے۔

تفصيلات کے مطابق صدر احمدي نژاد جو ان دنوں او آئي سي سربراہي اجلاس ميں شرکت کيلئے سعودي عرب کے دورے پر ہيں، نے مکہ مکرمہ ميں ترکي کے صدر جناب عبد اللہ گل سے ملاقات کي-

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے علاقائي مسائل سميت مختلف امور پر تبادلہ خيال کيا، صدر احمدي نژاد نے

دونوں ملکوں کے درميان ديرينہ روابط کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف اور آزادي کے حصول کيلئے جدوجہد کرنا تمام ممالک کا حق ہے اور کسي دوسري طاقت کو ان سے يہ حق زبردستي چھيننے کا کوئي حق حاصل نہيں ہے۔

انہوں نے اس بات پر خوشي کا اظہار کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ترکي کے درميان روابط مستحکم ہو رہے ہيں کہ البتہ دونوں ملکوں کے حکام کو باہمي روابط کے مزيد فروغ کيلئے اپني کوششيں جاري رکھني چاہيے۔۔

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ بندوق اور طاقت کے زور پر کسي نظام ميں تبديلي لانا ممکن نہيں ہے، يہي وجہ ہے کہ اگر کوئي نظام عوام کي رضايت کے بغير ان پر زبردستي مسلط کيا جائے تو وہ نظام ہرگز پائيدار نہيں ہو سکتا بلکہ بہت جلد نابودي اور زوال کا رخ اختيار کر ليتا ہے۔

ترکي کے صدر جناب عبداللہ گل نے ملاقات کے دوران اپنے خيالات کا ظہار کرتےہوئے کہا کہ کل ميں نے او آئي سي کے سربراہي اجلاس ميں آپ کا خطاب بہت غور سے سنا اور پھر اپنے خطاب ميں بھي ميں نے اس نکتہ کي طرف اشارہ کيا کہ آج اسلامي ممالک کو نئے چيلنجوں کا سامنا ہے جبکہ ہم دشنمنوں کي سازشوں سے مکمل غافل ہيں-

ترکي کے صدر نے کہا کہ صہيونيوں کے حوالے سےبھي ہمارا موقف اسلامي جمہوريہ ايران کي مانند ہے لہذا ہميں اپس ميں اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہيے اور اغيار کو اپنے داخلي مسائل ميں دخل اندازي کا موقع نہيں دينا چاہيے۔

انہوں نے شام کے موجودہ حالات پر تشويش کا اظہار کيا اور کہا کہ ہم مذاکرات اور گفتگو کو ہي شام کے مسائل کا حل سمجھتے ہيں۔



خبر کا کوڈ: 40678  

- غیرملکی دورے