
صدر احمدي نژاد کا تيل سے متعلق نئي پراجيکٹ کي افتتاحي تقريب سے خطاب:
کوئي بھي طاقت سائنس و ٹکنالوجي کے ميدان ميں ايراني قوم کي ترقي و پيشرفت کو روک نہيں سکتي۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا ہے کہ کوئي بھي طاقت سائنس و ٹکنالوجي کے ميدان ميں ايراني قوم کي ترقي و پيشرفت کو روک نہيں سکتي۔
يہ بات ڈاکٹر احمدي نژاد نے منگل کے دن دارالحکومت تہران ميں شہيد تندگويان آئل ريفائنري کے زير اہتمام منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کہي-
انہوں نے کہا کہ ايران کي عوام نے ترقي و کمال کي چوٹيوں کو سر کرنے کے لئے اپني تمام تر صلاحيتوں اور توانائيوں کو بہ روئے کار لانے کا تہيہ کر رکھا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ تيل سے حاصل ہونےوالي آمدني ايراني عوام کي ملکيت ہے البتہ ہماري کوشش ہو گي کہ تيل کي برآمدات پر بہت کم انحصار کيا جائے۔
انہوں نے تيل کي صنعت کے کارکنوں کي کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ايران کے تيل کي صنعت کے کارکنوں نے ملکي معيشت کو خود کفيل بنانے ميں اہم کردار ادا کيا اور دشمنوں کي تمام تر سازشوں کو ناکام بنا ديا۔
انہوں نےکہا کہ تيل کي موجودہ قيمت حقيقي نہيں ہے بلکہ عالمي سطح پر سياسي کشماکش موجودہ قيمت پر اثر انداز ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات پر خوشي کا اظہار کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے کارخانوں ميں استعمال ہونے والے آلات اور پرزہ جات کو ملک کے اندر تيار کر کے اس صنعت ميں مغربي ممالک کي اجارہ داري کا خاتمہ کيا ہے-
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کا بھي کيا کہ اب ديگر اقوام کو اپنے چنگل ميں پھنسائے رکھنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے-
انہوں نے تسلط پسند استکباري طاقتوں کو نصيحت کي کہ وہ ايراني عوام سے متعلق بات کرتے وقت اپنا لب و لہجہ درست رکھيں اور ادب و احترام سے گفتگو کريں۔
ايراني صدر نے مغربي ممالک کے اس الزام کو مسترد کيا کہ ايران ايٹمي ہتھيار بنانا چاہتا ہے، انہوں نے ايٹمي ہتھياروں سے متعلق اپنے موقف کي وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہميں ايٹمي ہتھيار بنانے کي کوئي ضرورت نہيں ہے ہم اعليٰ ثقافت، منطق اور انصاف پسندي کي بنيادوں پر ديگر اقوام سے اپنے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہيں۔