
مکہ مکرمہ ميں او آئي سي کے ہنگامي سربراہي اجلاس کے موقع پر صدر احمدي نژاد کا خطاب:
صدر احمدي نژاد کا اسلامي ممالک کے سربراہوں کو درپيش مسائل کے حوالے سے مکمل ہوشيار رہنے پر زور
مکہ مکرمہ ميں او آئي سي کے ہنگامي سربراہي اجلاس سے خطاب کے دوران صدر احمدي نژاد نے اسلامي ممالک کے سربراہوں کو خطے کے مسائل کے حوالے سے مکمل ہوشيار رہنے پر زور ديا ہے۔
صدر احمدي نژاد نے اپنے خطاب کے دوران استکباري سازشوں اور ان کے ناپاک منصوبوں کا مقابلہ کرنےکے لئے اسلامي ممالک کے درميان اتحاد و يکجہتي کي ضرورت پر زورديا اور کہا کہ تسلط پسند استکباري ممالک نيٹو افواج کے ذريعہ خطے پر اپنا قبضہ جمانا چاہتے ہيں جبکہ دوسري جانب امتِ مسلمہ اختلافات اور گروہ بندي کا شکار ہے،تمام اسلامي ممالک دشمنوں کي جال ميں پھنسے ہوئے ہيں اور دشمن بھي ميڈيا کے ذريعہ ان اختلافات کو مزيد اچھال رہے ہيں يہي وجہ ہے کہ اسلامي ممالک ترقي اور پيشرفت سے محروم ہيں اور اسرائيل سميت ديگر دشمن ممالک آسودہ خيال ہو کر ہمارے خلاف منصوبے بنا رہے ہيں۔۔
صدر مملکت نے کہا کہ علاقائي ملکوں کو چاہئے کہ اپنے اختلافات اور مسائل حل خود کريں اور يہ کہ استکباري ممالک ايسي حالت ميں کہ خود آمريت و بے انصافي کا سرچشمہ بنے ہوئے ہيں علاقائي قوموں کو انصاف و آزادي کا درس دينے کا حق نہيں رکھتے اسلئے کہ استکباري ممالک اپني قوموں پر بھي رحم نہيں کرتے ۔
انہوں نے کانفرنس ميں شريک اسلامي ممالک کے سربراہوں کي توجہ ايک اہم نکتہ کي طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق، شام، سوڈان، يمن، بحرين، ليبيا اور ديگر اسلامي ممالک ميں مسلمان ہي اپس ميں برسرپيکار ہيں، اخر ايسا کيوں ہے؟
صدر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي ممالک کو اپس ميں اتفاق و اتحاد کے ساتھ زندگي گزارني چاہيے اور دشمنوں کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ديوار کي مانند کھڑا رہنا چاہيے انہوں نے اپس کي اختلافات ختم کرنے کيلئے اسلامي ممالک کےسربراہوں کو مفيد پيشنھاد اور مشورہ ديتے ہوئے کہا کہ اسلامي ممالک سے چند چيدہ اور منتخب مؤمن اورعادل افراد کي ايک ٹيم تشکيل ديني چاہيے اور
پھر تمام اسلامي ممالک کو اس پر اتفاق کرنا چاہيے کہ اختلافات کي صورت ميں ان کي بات حرفِ اخر ہوگي۔
جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ سرزمين فلسطين فلسطينيوں سے متعلق ہے اور صيہوني حکومت اس مقدس سرزمين کے کسي بھي حصے پر اپنا قبضہ باقي نہيں رکھہ سکے گي۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ صہيوني حکومت خطے ميں سرطاني ناسور کي مانند ہيں، انہوں نے کہا کہ خطے کي موجودہ تمام مشکلات کي جڑ صہيوني حکومت کا وجود ہے جو امريکا کي سرپرستي ميں ملت فلسطين اور علاقے کے ديگر ملکوں کے عوام کے خلاف وسيع پيمانے پر جرائم کا مرتکب ہو رہي ہے، لہذا حالات کا تقاضا يہ ہے کہ اس سال يومِ القدس کو شايانِ شان طريقے سے منانا چاہيے۔
انہوں نے کہا کہ درحقيقت دشمن اسلامي ممالک ميں سے کسي ملک کي بھي ترقي نہيں چاہتا اور وہ ہر ملک کيلئے ان کے حالات کے مطابق منصوبے تيار کر رہا ہے لہذا تمام اسلامي ممالک کو اپس ميں اتحاد اور يکجہتي کا مظاہرہ کرنا چاہيے کيونکہ تمام مسلمانوں کا خدا ايک، دين ايک، قبلہ ايک، قرآن ايک اور پيغمبر بھي ايک ہے تو بھلا پھر يہ اختلافات کيوں؟!
اگر پيغمبر اکرم (ص) کي عملي زندگي کا مطالعہ کيا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ آنحضرت(ص) بھي پوري زندگي مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد کا درس ديا کرتے تھے، پيغمبراکرم (ص) کي اسي فرمائش پر عمل کرنے ميں ہي ہماري نجات اور ہماري کاميابي ہے اور جو بھي ہمارے اس اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہيں وہ دشمنوں کے آلہ کار ہيں اور ان کے فائدے کيلئے کام کر رہے ہيں۔