
شام کے وزير خارجہ کي صدر احمدي ںژاد کے ساتھ ملاقات:
استکباري طاقتيں صہيونيوں کو نجات دلا کر خطے پر اپنا تسلط جمانا چاہتے ہيں
يہ بات صدر احمدي نژاد نے آج اتوار کو شام کے وزير خارجہ جناب وليد معلم کے ساتھ ملاقات کے دوران کہي-
انہوں نے کہا کہ آّزادي، خود مختاري اور عدل و انصاف کا حصول تمام ممالک کا بنيادي حق ہے اور دوسروں کو بھي ان کا يہ حق تسليم کر لينا چاہيے۔
انہوں نے اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ موجودہ عالمي نظام ميں بنيادي تبديلي رونما ہونے والي ہے، اس سلسلے ميں ہماري ذمہ داري يہ ہے کہ حالات پر کڑي نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق مثبت پاليسي سے کام ليں۔
انہوں نے مزيد کہا کہ نيٹو اور ان مغربي ممالک سے آزادي اور انصاف ملنے کي اميد کيسي رکھي جائے جن کے ہاں آزادي اور انصاف کا نام و نشان تک نہيں ہے-
درحقيقت استکباري ملکوں کے حاليہ سازشوں سے بنيادي مقصد صہيوني حکومت کي ڈوبتي کشتي کو سہارا دينا ہے۔
صدر مملکت نے شام سميت تمام آزاد اور خود مختار ممالک کي کاميابي کيلئےدعا کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ بشار اسد کي اعليٰ اور بابصيرت قيادت کے نتيجے ميں شام ميں جلد از جلد امن و امان قائم ہو جائے گا۔
اس موقع پر شام کے وزير خارجہ جناب وليد معلم نے رہبرِ انقلاب اسلامي، ايراني حکومت اور عوام کو اپنا سلام پيش کرتے ہوئے شام کے حالات پر تفصيلي رپورٹ صدر احمدي ںژاد کے حوالے کردي۔